اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف مزاح نگار اور ناول نگار علامہ راشدالخیری کا یومِ وفات ہے

 علامہ راشدالخیری(ولادت: 1868ء – وفات :3 فروری 1936ء)
——
اردو ناول کی تاریخ میں علامہ راشدالخیری کی ایک اہم جگہ ہے۔ موصوف 1868ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام عبدالواحد تھا۔ حیدرآباد میں ملازمت کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ راشدالخیری کے اسلاف کی وابستگی شاہان مغلیہ کے اساتذہ کی حیثیت سے تھی۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ڈپٹی نذیراحمد راشدالخیری کے پھوپھا تھے۔
علامہ راشدالخیری کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی عمر بہت کم تھی چنانچہ ان کی تربیت کا بار ان کے دادا کے سر آیا۔ چچا بھی معاونت کرتے رہے۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم زمانے کے رواج کے مطابق گھر ہی پر حاصل کی۔ لیکن انگریزی کے لئے ایک اسکول میں داخل ہوئے۔ جب اس کی تکمیل ہوئی تو 1891ء میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور اسی ملازمت سے ہمیشہ وابستہ رہے۔ 1910 میں جب ملازمت سے الگ ہوئے تو تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس طرح انہوں نے اردو ادب کو متعدد گرانقدر ناول دیئے۔ ان کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی عمر 68 سال کی تھی۔ یعنی 1936ء میں انہوں نے وفات پائی۔
اوپر ذکر ہوا ہے کہ علامہ راشدالخیری ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان ہی کے نہیں بلکہ ان کی حیثیت ان کے اثرات قبول کرنے والوں کی رہی ہے۔ نذیر احمد نے عورتوں کی اصلاح کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا تھا۔ راشدالخیری انہیں کے اثرات کے تحت عورتوں کے مسائل کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے ناول ہی نہیں بلکہ مضامین میں بھی ایسے موضوعات کو برتنے کی کوشش کی جو اس زمانے میں عورتوں کے حالات اور اصلاح پر مبنی تھے۔ انہوں نے کئی رسالے جاری کئے۔ جن میں ’’عصمت‘‘ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ دوسرے رسائل ’’بنات‘‘، ’’تمدن‘‘،’’جوہرنسواں‘‘ اور ’’سہیلی‘‘ وغیرہ بھی وقتاً فوقتاً نکالتے رہے۔ عورتوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کے لیے ایک ادارہ بھی قائم کیا جس کا نام تھا ’’ترتیب گاہ بنات‘‘۔
علامہ راشدالخیری ایک ملتہب دل رکھتے تھے۔ انہیں احساس تھا کہ ان کے عہد کی عورتیں انتہائی مظلوم ہیں۔ سماج میں ان کی پوزیشن ویسی نہیں جیسی ہونی چاہئے۔ پھر اس زمانے کے رسم و رواج سے ان کی پسماندگی اور بھی شدید ہوگئی تھی۔ چنانچہ وہ مذموم اور قبیح رسوم کی مذمت سے باز نہیں آتے اور مسلسل ایسے رسوم کی تکذیب کرتے ہیں۔ لیکن راشدالخیری کو مغربی تہذیب سے بھی نفرت تھی۔ عورتوں کی تعلیم اور ذہنی ترقی کے سلسلے میں ان کا نقطۂ نظر واضح نہیں۔ اگر ان کا مقصد وہی مشرقی تہذیب ہے جس میں وہ گزربسر کر رہی تھیں تو پھر ان کی ترقی کے امکانات کیسے پیدا ہوسکتے تھے۔ محض رسوم کو چھوڑنے سے عورتیں نئے ذہن کی نہیں بن سکتی تھیں۔ ایسے میں ان کی ساری کوششیں غیر اہم بن جاتی ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : مشہور عالم دین مولانا ظہور الحسن کا یوم پیدائش
——
لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ان کی زبان بے حد دھلی دھلائی تھی روانی اور برجستگی سے مالا مال۔ ان کا اسلوب کافی دلکش ہے۔ جزئیات نگاری میں بھی ان کا جواب نہیں۔ ڈاکٹر سیدعبداللہ نے لکھا ہے کہ انہوں نے غم انگیزی اور رقت آفرینی میں مبالغہ کیا ہے اور یہی چیز ان کے لئے آفت راہ ثابت ہوئی۔ یعنی راشدالخیری مصورغم سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایسے اثرات پیدا کرنے کی کوشش کی جن سے واقعی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ احسن فاروقی نے لکھا ہے کہ ایسے ناول نگاروں کو فن ناول نگاری کی تاریخ میں کوئی جگہ نہیں ملنی چاہئے پھر بھی ان کو یک قلم نظر انداز کرتے نہیں بن پڑتا، ان پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ عہد حاضر میں گزرے ہوئے دور کے نمائندے ہیں اور ان کی تصانیف یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارا ناول کسی گڑھے میں اٹک کر رہ گیا ہے اور پھر ان کی تصانیف میں ایک ادبی کیف ہے جو ناول کے نقاد کو متاثر نہ کرے مگر پڑھنے والوں کی توجہ ضرور جذب کر لیتا ہے اور وہ پورے قصے کو ختم ہی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ ناولوں کو نفرت کے ساتھ اٹھا کر پھینک نہیں دیتا جس طرح وہ سستی اور لوچ چیزوں سے عاجز آکر ان کو پھینکنے پر مجبور ہوتا ہے۔
راشدالخیری کے جن ناولوں سے ہم آشنا ہیں ان کے نام ہیں ’’آمنہ کا لال‘‘، ’’سیدہ کا لال‘‘، ’’الذبیحہ‘‘، ’’عروس کربلا‘‘، ’’ماہ عجم‘‘، ’’نانی انشو‘‘، ’’انگوٹھی کا راز‘‘، ’’جوہرعصمت‘‘، ’’مثبت زندگی‘‘، ’’شام زندگی‘‘، ’’صبح زندگی‘‘، ’’لوح زندگی‘‘، ’’سمرنا کا چاند‘‘، ’’سراب مغرب‘‘، ’’تمغہ شیطانی‘‘، ’’حیات صالح‘‘، ’’بنت الوقت‘‘، ’’وداع خاتون‘‘ وغیرہ۔ ان ناولوں کے مطالعے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راشدالخیری ایک طرح کے ناول قلمبند کرتے ہیں۔ جن میں ہر کردار کو کسی نہ کسی طرح سے رقت کی فضا میں لاتے ہیں۔ حالانکہ یہ فضا مصنوعی ہوتی ہے پھر بھی اثر قائم کرتی ہے۔ پلاٹ ہمیشہ ڈھیلے ڈھالے ہوتے ہیں۔ ان کی مثال پسندی ٹائپ کردار ہی پیدا کرتی ہے۔ حالات وواقعات کردار پر اثر نہیں کرتے وہ ہر حال میں ایک جیسے رہتے ہیں۔ اس لئے ان کا مزاج غیر فطری معلوم ہوتا ہے۔ کرداروں کا لمبی لمبی تقریریں کرنا بھی مبالغہ آمیز معلوم ہوتا ہے۔ سہیل بخاری نے بجا طور پر لکھا ہے کہ:۔
’’بعض نقادوں کو راشدالخیری کے ناولوں سے اس لئے اختلاف ہے کہ انہوں نے عورت کو حور کا تصور تو بخشا ہے لیکن اس سے شریک حیات بننے کا افتخار چھین لیا۔ ان کے نزدیک وہ وقار، خلوص، ایثار، قربانی، پاکیزگی اور سچائی کا ایک مجسمہ ہے جس سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی۔ جس میں کوئی خاص خامی نہیں پائی جاتی، کوئی کمزوری نہیں ملتی اور یہ یک رخی تصویر ہے۔ حد درجہ مبالغہ آمیز حقیقت سے کوسوں دور۔ وہ صرف اس کی خوبیاں گناتے ہیں، خامیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں جیسے وہ خدا کی ایک بے عیب اور مکمل مخلوق ہو۔ پھر وہ اسی کی سماجی حیثیت میں اصلاح تو چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے باضابطہ لائحہ عمل نہیں پیش کرتے۔ اس کا درد بیان کرتے ہیں درد کا درماں نہیں تجویز کرتے۔۔۔ یہ ہمدردی نہیں جذباتیت ہے۔‘‘
سہیل بخاری کی اس تنقید سے اتفاق کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ راشدالخیری اپنے طرز کے ایک ایسے ناول نگار تھے جنہیں عام پڑھنے والے آج بھی پسند کرتے ہیں۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ