اردوئے معلیٰ

آج شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی پانی پتی کا یوم وفات ہے۔

مولانا الطاف حسین حالی(پیدائش: 1837ء- وفات: 31 دسمبر، 1914ء)
——
خواجہ الطاف حسین حالی ، ہندوستان میں ’’اردو‘‘ کے نامورشاعراورنقاد گذرے ہیں۔ حالی 1837ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ ایزؔو بخش تھا – ابھی 9 سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا، اور کچھ عرصہ بعد ہی اُن کی والدہ کا دماغ ماؤف ہو گیا تو حالی کے بڑے بھائی امدؔاد حسین نے پرورش کی۔ اسلامی دستور کے مطابق پہلے قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد ازاں عربی کی تعلیم شروع کی۔ 17 برس کی عمر میں ان کی مرضی کے خلاف شادی کر دی گئی۔ اب انہوں نے دلی کا قصد کیا اور 2 سال تک عربی صرف و نحو اور منطق وغیرہ پڑھتے رہے۔ حالؔی کے بچپن کا زمانہ ہندوستان میں تمدن اور معاشرت کے انتہائی زوال کا دور تھا۔ سلطنتِ مغلیہ جو 300 سال سے اہل ِ ہند خصوصاََ مسلمانوں کی تمدنی زندگی کی مرکز بنی ہوئی تھی، دم توڑ رہی تھی۔ سیاسی انتشار کی وجہ سے جماعت کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور انفرادیت کی ہوا چل رہی تھی۔
1856ء میں ہسار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہو گئے لیکن 1857ء میں پانی پت آ گئے۔ 3-4 سال بعد جہانگیر آباد کے رئیس مصطفٰی خان شیفؔتہ کے بچوں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ نواب صاحب کی صحبت سے مولانا الطاف حسین حالی کی شاعری چمک اٹھی۔ تقریباَ 8 سال مستفید ہوتے رہے۔ پھر دلی آکر مرزا غاؔلب کے شاگرد ہوئے۔ غاؔلب کی وفات پر حالؔی لاہور چلے آئے اور گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازمت اختیار کی۔ لاہور میں محمد حسین آزؔاد کے ساتھ مل کر انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالی یوں شعر و شاعری کی خدمت کی اور جدید شاعری کی بنیاد ڈالی۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ وفات
——
4 سال لاہور میں رہنے کے بعد دلی چلے گئے اور اینگلو عربک کالج میں معلم ہو گئے۔ وہاں سرسؔید احمد خان سے ملاقات ہوئی اور ان کے خیالات سے متاثر ہوئے۔ اسی دوران1879ء میں ’’مسدس حالؔی‘‘ سر سیؔد کی فرمائش پر لکھی۔ ’’مسدس‘‘ کے بعد الطاف حسین حالی نے اِسی طرز کی اوربہت سی نظمیں لکھیں جن کے سیدھے سادے الفاظ میں انہوں نے فلسفہ، تاریخ، معاشرت اور اخلاق کے ایسے پہلو بیان کیے جن کو نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد پانی پت میں سکونت اختیار کی۔ 1904ء میں ’’شمس اللعلماء‘‘ کا خطاب ملا 31 دسمبر 1914ء کو پانی پت میں وفات پائی۔
سرسید جس تحریک کے علمبردار تھے حالی اسی کے نقیب تھے۔ سرسؔید نے اردو نثر کو جو وقار اور اعلیٰ تنقید کے جوہر عطا کیے تھے۔ الطاف حسین حالی کے مرصع قلم نے انہیں چمکایا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اردو ادب کو صحیح ادبی رنگ سے آشنا کیا بلکہ آنے والے ادیبوں کے لیے ادبی تنقید، سوانح نگاری، انشاپردازی اور وقتی مسائل پر بے تکان اظہار خیال کرنے کے بہترین نمونے یادگار چھوڑے۔
——
تصانیف
——
تریاق مسموم
طبقات الارض
مسدس حالی
حیات سعدی
حیات جاوید
یادگار غالب
مقدمہ شعروشاعری
حب الوطن
برکھارت
منطق پر رسالہ لکھا۔ جو 1854 میں تلف ہوا
طباق الارض کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا جو مبادی جیولوجی پر تھا
اصولِ فارسی
مذہبیات
مولود شریف
تریاق مسموم: پادری عماد الدین کے لیے جواب تھا
رسالہ خیر المواعظ
شواہد الہام
مرتبہ ڈاکٹرافتخارشفیع ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور
——
یہ بھی پڑھیں : ڈرامہ نویس خواجہ معین الدین کا یوم پیدائش
——
اخلاقیات
مجالس النساء: لاہور میں لکھی، طالبات کے لیے، جو 400 روپے انعام کی حقدار سرکار کی جانب سے قرار پائی اور برسوں نصاب میں شامل رہی۔
سوانح
سوانح حکیم ناصر خسرو
حیات سعدی
تذکرۂ رحمانیہ: مولانا عبد الرحمن کی وفات پر چھپی
یادگار غالب: اس کتاب نے غالب کو آب حیات کے مقابل اصل مقام سے روشناس کروایا
حیات جاوید
مضامین و انشا
مضامین حالی
مقالات حالی
مکاتیب حالی
تنقید
مقدمۂ شعرو شاعری
دیوان حالی
مجموعۂ نظم حالی
ضمیمہ اردو کلیات حالی
انتخاب کلام داغ: حالی نے اس پر کام شروع کیا مگر مکمل نہ کرسکے جس کی تکمیل بعدمیں سجاد حسین اور محمد اسماعیل پانی پتی نے کی۔
——
حضرت خواجہ الطاف حسین حالی (شخصیت اور کارنامے) از ڈاکٹر امیر علی
——
سلطان غیاث الدین بلبن کے عہد حکومت میں ملک ہرات سے ایک عالم حضرت خواجہ ملک علی ہندوستان آئے ۔ بادشاہ خود ذی علم اور عالموں کا بڑا قدردان تھا ۔اس نے خواجہ ملک علی کے علم و فضل اور اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہوکر انہیں پانی پت میں جاگیر عطا کی ۔ یہاں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ یہاں ان کی اولاد خوب پھلی پھولی ۔ ان کی پندرھویں نسل میں حضرت خواجہ ریزد بخش نام کے ایک بزرگ گزرے ہیں۔ انہیں 1837 ء (1253 ھ) میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام خواجہ الطاف حسین رکھا گیا ۔ یہی الطاف حسین حالی کے نام (تخلص) سے سارے ہندوستان میں شہرت پائی اور علم و ادب کے میدان میں بڑے بڑے کام انجام دیئے اور پانی پت کا نام سارے ملکوں میں روشن کردیا۔
الطاف حسین حالی کی ابتدائی تعلیم پانچ سال کی عمر سے شروع ہوئی۔ انہوں نے عربی ، فارسی ، اردو اور مذہبی کتابیں پڑھیں۔ اس وقت کے دستور کے مطابق انہوں نے قرآن مجید حفظ کیا۔ حالیؔ ابھی نو (9) سال کے تھے کہ ان کے والد حضرت خواجہ ایزد بخش کا انتقال ہوگیا ۔ بڑے بھائی خواجہ امداد حسین نے ان کی پرورش کی ۔ گھر کی مالی حالت نے حالیؔ کو باقاعدہ مدرسہ کی تعلیم سے محر وم رکھا ۔ مگر حالیؔ تحصیل علم کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ علم کا شوق اور ذہانت اتنی تھی کہ اس کی کسر پوری ہوجاتی تھی ۔ حالیؔ کی شادی کم عمر ہی میں کردی گئی ۔ حالانکہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ ابھی تو وہ بہت کچھ پڑھنا لکھنا اور علم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ شادی تو ہوگئی مگر حالیؔ دہلی جاکر مزید علم حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ ایک دن چپکے سے رات کے وقت گھر سے نکلے اور دہلی کی طرف روانہ ہوگئے ۔ پانی پت سے دہلی (55) میل کا فاصلہ انہوں نے پیدل طئے کیا۔ 1854 ء میں دلی پہنچے تو اتنے بڑ ے شہر میں نہ کسی سے کوئی جان پہچان تھی اور نہ ہی پاس میں پیسہ تھا ۔ یہاں آکر انہیں پتہ چلا کہ جامع مسجد کے قریب ایک مسجد میں ’’حسین بخش کا مدرسہ‘‘ ہے جہاں پر غریب لڑ کوں کو مفت تعلیم و تربیت دی جاتی تھی۔ حالیؔ اس مدرسے میں داخل ہوئے اور وہاں انہوں نے مولوی نوازش علی کی نگرانی میں علم حاصل کرنا شروع کردیا ۔ یہیں مسجد کے فرش پر سو رہے تھے اور جو مل جاتا کھالیتے۔ حالیؔ مولوی نوازش علی کے علاوہ ، مولوی فیض حسن ، مولوی امیر احمداور مولوی سیہد نذیر حسین سے بھی علم حاصل کئے اور ان کی تربیت سے فیض یاب ہوئے ۔ دہلی میں اُس وقت بڑے بڑے شعراء ، ادیب ، عالم اور اہلِ کمال موجود تھے اور ان کے فر و فن کا طوطی بول رہا تھا اور آئے دن ہر طرف ادبی مشاعرے ہوا کرتے تھے ۔ حالیؔ کو بھی مشاعروں کا چسکا لگ چکا تھا اور وہ ان مشاعروں میں شریک ہونے لگے اور اسی دوران حالیؔ کو شعر کہنے کا شوق پیدا ہوگیا اور اسی طرح حالی کی دلی کی آب و ہوا راس آگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک کامیاب شاعر و ادیب بن گئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ڈرامہ نویس خواجہ معین الدین کا یوم وفات
——
دہلی میں الطاف حسین حالی کی ملاقات کئی نامور شاعروں سے ہوئی جن میں مرزا اسد اللہ خان غالبؔ بھی تھے جن کا اس دور میں بڑا شہرہ تھا ۔ دلی کے قیام کے زمانے میں حالیؔ نے شاعری میں ’’خستہ‘‘ تخلص اختیار کیا تھا مگر مرزا غالبؔ کے مشورے سے انہوں نے اپنا تخلص بدل کر ’’حالیؔ‘‘ رکھ لیا اور اسی سے وہ ادبی دنیا میں مشہور ہوئے ۔ اسی زمانے میں حالیؔ نے اپنی چند غزلیں مرزا غالبؔ کو پیش کیں۔ مرزا غالب بہت کم کسی کو شعر کہنے کا مشورہ دیتے تھے ۔ مگر حالیؔ کا کلام مرزا غالب کو بہت پسند آیا اور انہوں نے خوب داد دی اور کہا کہ : ’’میں کسی کو فکرِ شعر کی صلاح نہیں یتا مگر ت مہاری نسبت میرا خیال ہے کہ اگر تم شعر نہ کہو گے تو اپنی طبیعت پر ظلم کرو گے۔
دلی میں الطاف حسین حالی کی ملاقات سر سید احمد خان سے ہوئی۔ حالیؔ پہلے سر سید کو زیادہ نہ مانتے تھے کچھ تھوڑے بہت بدگمان بھی تھے مگر جب ان کی ملاقات سرسید سے ہوئی تو پہلی ہی بار میں وہ سرسید سے بہت متاثر ہوئے اور اُن کے خلوص اور کام کی اہمیت کو سمجھ گئے اور دل و جان سے اُن کے ساتھی بن گئے اور یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہا ۔ سر سید بھی حالیؔ میں چھپے ہوئے علمی جوہر کو پہچان لیا تھا ۔ سر سید نے حالیؔ سے خواہش کی کہ ترقی یافتہ ملکوں میں لوگ شاعری سے بڑے بڑے کام لیتے ہیں اور کیوں نہ آپ بھی اپنی شاعری اور علمی صلاحیتوں سے قوم و ملت کو جگانے اور ان ہیں سدھارنے کا کام لیجئے۔ سر سید نے جو کہا تھا حالیؔ نے ’’حیاتِ جاوید‘‘ میں اسے یوں درج کیا ہے۔
’’قوم کے ایک سچے خیر خواہ (سر سید) نے غیرت دلائی کہ خدا کی دی ہوئی زبان سے کچھ کام نہ لینا بڑے شرم کی بات ہے۔ عزیز ذلیل ہوگئے ۔ شریف خاک میں مل گئے ۔ علم کا خاتمہ ہوگیا ۔ دین کا صرف نام باقی ہے ۔ افلاس کی گھر گھر پکار ہے۔ ایسے میں جس سے جو کچھ بن آئے سو بہتر ہے۔ نظم کہ سب کو مرغوب ہے ، قوم کو بیدار کرنے کے لئے کسی نے نہیں لکھی‘‘۔
سر سید کی باتوں کا الطاف حسین حالی پر بہت گہرا اثر ہوا اور اسی کا نتیجہ ’’مسدس حالیؔ‘‘ ہے جو ’’مسدس مد و جنت اسلام‘‘ کے نام سے 1879 ء میں شائع ہوئی ۔ اس مسدس نے مسلمانوں کو غیرت دلائی اور سوتے سے جگاکر اُن میں نئی تعلیم اور نئی زندگی کی طرف متوجہ کردیا ۔ اس طرح سر سید کی بدولت ’’قوم کو شاعر مل گیا ‘‘ اور ’’شاعر کو قوم مل گئی ‘‘۔ مسدس حالی میں پہلی بار شائع ہوئی تو ہر طرف ہلچل مچ گئی ۔ لوگ پڑھتے تھے اور روتے تھے ۔ لوگوں نے مسدس کی بہت تعریف کی مگر سب سے زیادہ قدر سر سید نے کی۔ انہوں نے حالی کو لکھا کہ
’’اگر خدا مجھ سے پوچھے گا کہ تو کیا لایا تو میں کہوں گا کہ حالی سے مسدس لکھوا لایا اور کچھ نہیں‘‘۔
ملک کے بدلتے ہوئے حالات اور مسلمانوں کی زبوں حالی پر الطاف حسین حالی گہری نظر تھی۔ حالیؔ قوم کے سچے ہمدرد اور صلح کل انسان تھے ۔ وہ اپنی شاعری سے قوم کو خواب غفلت سے جگانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے انہوں نے قدیم رنگ شاعری کو یکسر ترک کردیا اور اُس کی جگہ جدید خیالات اور طرز فکر کو اپنی شاعری میں جگہ دی اور ان ہوں نے اپنی غزلوں اور نظموں میں نیا اسلوب اپنایا تھا اور جن موضوعات پر وہ زور دیتے رہے وہ وقت کا اہم تقاضہ تھے، خواہ ان ہیں دل و دماع، معاشرہ اورسماج قبول کرے یانہ کرے ۔ حالیؔ کی ایک مشہور غزل کچھ اس طرح ہے۔ ملاحظہ ہو :
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر، طنز و مزاح نگار اور کالم نگار مشفق خواجہ کا یوم پیدائش
——
اس کے جاتے ہی کیا ہوگئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت
کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل ترکی صورت
ہے غمِ روزِ جدائی نہ نشاطِ شبِ وصل
ہوگئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت
اپنے جیسوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
واعظو آتشِ دوزخ سے جہاں کو تم نے
یہ ڈرایا ہے خود بن گئے ڈر کی صورت
کیا خبر زاہدِ قانع کو کہ کیا چیز ہے حرص
اس نے دیکھی ہی نہیں کسیۂ زر کی صورت
شوق میں اس کے مزہ ، درد میں اس کے لذت
ناصحو، اس سے نہیں کوئی مضر کی صورت
رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطا
راہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت
یوں تو آیا ہے تباہی میں یہ بیڑا سو بار
پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت
ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت
——
1904 ء میں حالیؔ کو ان دیرینہ علمی اور ادبی خدمات کے صلہ میں حکومت کی جانب سے ’’شمس العلما‘‘ کا باوقار خطاب عطا کیا گیا اور ان کی خدمات کو سراہا گیا ۔ حالیؔ نے طویل عمر پائی اور آخری سانس تک اردو زبان و ادب کی خدمت میں لگے رہے ۔ مگر حالیؔ کی صحت رفتہ رفتہ سات چھوڑنے لگی اور آخر کار 31 ڈسمبر 1914 ء کو انہوں نے آخری سانس لی اور اپنی جان ، جانِ آفرین کے سپرد کردی اور اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے اور اپنے آبائی وطن پانی پت میں ہی مشہور صوفی درویش حضرت بو علی شاہ قلندر ؒ کی درگاہ کے احاطہ میں آپ کی جسدِ خاکی کو سپرد لحد کردیا گیا۔
——
مت سہل اُنہیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیبہ ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یومِ پیدائش
——
منتخب کلام
——
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
——
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
——
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
——
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
——
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
——
تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط
الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا
——
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور
ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں
یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر
تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشق
رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں
بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کا
خط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں
کون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیر
اس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
حالیؔ نشاط نغمہ و مے ڈھونڈھتے ہو اب
آئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں
——
دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا
سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا
تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط
الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا
اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست
زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا
دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں
اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا
مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگ
ساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا
راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر
دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا
کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے
پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا
بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ
ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا
ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پر
کس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا
مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدر
یعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا
جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپ
قصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا
——
آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم
سب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہم
اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہم
کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم
ہنستے ہیں اس کے گریۂ بے اختیار پر
بھولے ہیں بات کہہ کے کوئی راز داں سے ہم
اب شوق سے بگڑ کے ہی باتیں کیا کرو
کچھ پا گئے ہیں آپ کے طرز بیاں سے ہم
جنت میں تو نہیں اگر یہ زخم تیغ عشق
بدلیں گے تجھ کو زندگیٔ جاوداں سے ہم
——
کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
ہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصل
ہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
دیکھیے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو آتش دوزخ سے جہاں کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
کیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرص
اس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت
میں بچا تیر حوادث سے نشانہ بن کر
آڑے آئی مری تسلیم سپر کی صورت
شوق میں اس کے مزا درد میں اس کے لذت
ناصحو اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت
حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضرور
رہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت
رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطا
راہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت
یوں تو آیا ہے تباہی میں یہ بیڑا سو بار
پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت
ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت
——
وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے
نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے
قطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکر
شکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے
قوت دست خدائی ہے شکیبائی میں
وقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے
ڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہے
ہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے
نشہ میں چور نہ ہوں جھانجھ میں مخمور نہ ہوں
پند یہ پیر خرابات نے فرمائی ہے
نظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئی
بعد مدت کے تمنا مری بر آئی ہے
بات سچی کہی اور انگلیاں اٹھیں سب کی
سچ میں حالیؔ کوئی رسوائی سی رسوائی ہے
——
مٹی کا دیا
جھٹپٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا
تاکہ رہگیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
راہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑا
یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سے
روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا
گر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیے
ہے اندھیرا گھپ در و دیوار پر چھایا ہوا
سرخ رو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیں
روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں
ہم نے ان عالی بناؤں سے کیا اکثر سوال
آشکارا جن سے ان کے بانیوں کا ہے جلال
شان و شوکت کی تمہاری دھوم ہے آفاق میں
دور سے آ آ کے تم کو دیکھتے ہیں با کمال
قوم کو اس شان و شوکت سے تمہاری کیا ملا
دو جواب اس کا اگر رکھتی ہو یارائے مقال
سرنگوں ہو کر وہ سب بولیں زبان حال سے
ہو سکا ہم سے نہ کچھ الانفعال الانفعال
بانیوں نے تھا بنایا اس لیے گویا ہمیں
ہم کو جب دیکھیں خلف اسلاف کو رویا کریں
شوق سے اس نے بنایا مقبرہ اک شاندار
اور چھوڑا اس نے اک ایوان عالی یادگار
ایک نے دنیا کے پودے باغ میں اپنے لگائے
ایک نے چھوڑے دفینے سیم و زر کے بے شمار
اک محب قوم نے اپنے مبارک ہاتھ سے
قوم کی تعلیم کی بنیاد ڈالی استوار
ہوگی عالم میں کہو سرسبز یہ پچھلی مراد
یا وہ اگلوں کی امیدیں لائیں گی کچھ برگ و بار
چشمۂ سر جیوں ہے جو بہتا رہے گا یاں وہی
سب اتر جائیں گی چڑھ چڑھ ندیاں برسات کی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات