اپنے آپ سے مل کر بھول گیا انسان

اپنے آپ سے مل کر بھول گیا انسان

وہ تو خود ہی اس دھرتی کا ہے مہمان

 

قدم قدم پر وحشت کا بھی قبضہ ہے

کتنے مار کے پھینکتے جاؤ گے شیطان

 

پر رونق ہے دھرتی کا اک اک چپہ

آج تلک ہے لیکن میرا گھر ویران

 

ہجر کے صدمے شاید اب برداشت نہ ہوں

چھوڑ کے جانے والے تھوڑا کرنا دھیان

 

طاہر اس نے ایسا حال کیا ہے اب

میری حالت پر ہے یہ دنیا حیران

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ