اب ایسے شخص کو کوئی کہہ کر بھی کیا کہے

اب ایسے شخص کو کوئی کہہ کر بھی کیا کہے

جس نے وفا کیے نہیں، پر وعدے خوب تھے

 

اے رب ذوالجلال! سماعت بھی چھین لے

سن سن کے جھوٹ لوگوں کے، الفاظ چل بسے

 

غم کے، اذیتوں کے تھے، یا تھے وہ ہجر کے

صد شکر ہم نے کاٹے ہیں،مشکل تھے مرحلے

 

زندہ دلان شہر تھے کل جن سے منسلک

افسوس ہائے وہ بھی یہاں لوگ مر گئے

 

پلکیں بچھا کے آپ کا دیکھیں گے راستہ

اے دوست میرے شہر میں جس وقت آئیے

 

طاہر نہ بھول پائے گا تاعمر میرے دوست

دل سے اتر نہ پائیں گے احسان آپ کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ