اردوئے معلیٰ

آج معروف صحافی اور شاعر عارف شفیق کا یوم وفات ہے

 عارف شفیق(پیدائش: 31 اکتوبر 1956ء – وفات: 14 دسمبر 2019ء)
——
عارف شفیق 31 اکتوبر 1956ء میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے،
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ شعبۂ صحافت سے وابستہ ہوئے اور کئی اخبارات کے چیف ایڈیٹر بھی رہے. عارف شفیق نے شاعری کے علاوہ افسانہ نگاری کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
——
تصانیف
——
اندھی سوچیں گونگے لفظ
سیپ کے دیپ
جب زمین پر کوئی دیوار نہ تھی
احتجاج
سرپھری ہوا
میں ہواؤں کا رخ بدل دوں گا
میرا شہر جل رہا ہے
یقین
میری دھرتی میرے لوگ
——
عارف شفیق طویل علالت کے بعد 63 برس کی عمر میں 14 دسمبر 2019ء کو انتقال کرگئے،
——
یہ بھی پڑھیں : مزاح نگار کرنل شفیق الرحمن کا یوم وفات
——
اُن کی نمازجنازہ الفلاح مسجد ایف سی ایریا میں ادا کی گئی، جس کےبعد مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا
مرحوم کافی عرصے سے سانس کی بیماری اور فالج کے مرض میں مبتلا تھے، مرحوم نے سوگواروں میں بیوہ، 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو چھوڑا ہے۔
عارف شفیق کے 8 شعری مجموعہ شائع ہوئے ، وہ ادبی اور سماجی حلقوں میں اپنے اشعار سے پہچانے جاتے تھے
——
قد عارف شفیق کا از رفیع اللہ میاں
——
وہ رمضان ہی کا مہینہ تھا جب عارف شفیق سے میری پہلی ملاقات‘ کوئی پندرہ سولہ برس قبل (اندازاً) فرید پبلشر کے کتاب میلے میں ابن آس کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔ شاعری اور پیشے کے حوالے سے بات چل رہی تھی تو انھوں نے کہا کہ میرا تو کام ہی شاعری کرنا ہے، روز ایک غزل کہتا ہوں۔ ابھی امجد اسلام امجد نے جب یہ کہا کہ: ’’عارف شفیق ایک سوچنے‘ غور و تجزیہ اور سوال کرنے والے پر گو شاعر ہیں‘‘ تو ذہن کے پردے پر دو اور اہم نام روشن ہوئے جو زود گو اور نام ور ہیں۔ یعنی ظفر اقبال اور صابر ظفر۔ غزل میں ان تینوں کے لہجے اور فکر کے دائروں کی حدیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ ان کے ہاں جو اہم چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ یہ شاعری کو زندگی کا لازمی جز بناکر جیتے ہیں۔اچھے‘ اہم ترین اور بڑے شاعروں میں یہ بنیادی خوبی موجود رہی ہے۔
عارف شفیق وہ واحد شاعر ہیں جنھیں کراچی کا نمایندہ شاعر کہا جاسکتا ہے۔ میں رسا چغتائی‘ انور شعور‘ عباس رضوی‘ سحر انصاری جیسے اہم شاعروں کو نہیں بھولا ہوں لیکن میں جب بھی عارف شفیق کو ان سب کے سامنے رکھ کر دیکھتا ہوں تو دو ایک دوسرے سے بہت مختلف دائرے بنتے ہیں اور عارف شفیق اپنے فن کے ذریعے لوگوں سے جڑت کے سلسلے میں مجھے ان سے برتر مقام پر دکھائی دیتے ہیں۔ متحرک سیاسی زندگی گزارنے والے شاعروں کے ہاں تجربے کی ایک ایسی سطح ملتی ہے جو محض تصوری نہیں بلکہ عملی تصوری ہوتی ہے۔ عارف شفیق کی شاعری اسی سے عبارت ہے۔ سیاسی اور سماجی زندگی میں عام لوگوں اور ان کے دکھ درد سے بے حد قربت کی وجہ سے شاعر کا فن اتنی سادگی اختیار کرتا ہے کہ بہت سی جگہوں پر گفتگو اور شاعری کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ عارف شفیق کے ہاں یہی معاملہ ملتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کرنل شفیق الرحمن کا یوم پیدائش
——
’’مرے کشکول میں ہیں چاند سورج‘‘ اپریل 2014 میں شایع ہوا ہے۔ اس مجموعے میں ان کا‘ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف توجہ واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ لیکن یہ تعلق ایک تارک الدنیا صوفی والا نہیں ہے بلکہ اس تعلق کے پردے میں بھی ایک عام آدمی کی عام ذہنی و قلبی سطح جھلکتی ہے۔ یہ سطح مجموعی طور پر ان کی شاعری کی سطح ہے جو ان کی عملی زندگی کی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مصنف کی موت نہ ہونے کے باوجود بعض اوقات لوگ خواہش کرتے ہیں کہ فن کو اس کے مصنف کی سیاسی‘ سماجی شناخت سے ہٹ کر دیکھا جائے۔ دوسری طرف ہم اپنے عملی رویوں میں اس چیز کو بہت گہرائی تک لے جاچکے ہیں کہ قبولیت کا دارومدار ہی سیاسی، سماجی شناخت پر ہے۔
دماغ میں اگر تصورات صاف نہ ہوں تو سطح پر اس دورنگی کا ظہور ہوتا ہی ہے۔ عارف شفیق کی شاعری کا متن ایسے ٹریسز سے بھرا ہوا ہے کہ جس سے اس کے تناظر کے بارے میں خبرواضح طور پر مل جاتی ہے۔ متن کے تناظر میں شاعر/مصنف کا تناظر بھی مل جاتا ہے۔ ہم ابھی شخصیت پرستی سے نکلنے کی جرأت نہیں کرسکتے کیوں کہ ہمارا تمام سیاسی و سماجی ڈھانچا ہی اسی پر قائم ہے۔ مصنف کے سیاسی تناظر کو زیرگفتگو لائے بغیر اور اس پر سوال قائم کیے بغیر اس ’پرستی‘ سے نجات ممکن بھی نہیں ہے۔ یعنی ہم اگر چاہتے ہیں کہ متن پر گفتگو کرتے وقت مصنف کو زیر بحث نہ لایا جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مصنف کو زیر بحث لاکر اس پر کڑے سوال قائم کیے جائیں اور یوں اس کی شخصیت کو مرکز سے ہٹاکر متن کا تجزیہ کیا جائے۔ مرکز میں شخصیت کی موجودی کی وجہ سے متن پر آزادانہ گفتگو ممکن بھی نہیں رہتی کیوں کہ ہمارا اجتماعی مائنڈ سیٹ ایسے کسی عمل کو بزرگوں کی گستاخی پر محمول کرکے اسے رد کردیتا ہے۔
عارف شفیق کی شاعری کو ایم کیو ایم کے ساتھ طویل سیاسی وابستگی سے جدا کرکے دیکھنا ایسا ہے جیسے اس شاعری کے متن کو اس کے تناظر سے جدا کیا جائے۔ جب اس تناظر کا تذکرہ ہوتا ہے تو کچھ لوگوں کا لہجہ معذرت خواہانہ کیوں ہوتا ہے؟ ہم سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ فن کار کو بھی ایک عام آدمی کی طرح کوئی بھی سیاسی یا غیر سیاسی نظریہ یا تحریک اختیار کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تنقید تو متن کو اس کے تناظر کے ساتھ دیکھتی ہے اور ہمارے بیش تر ادبی متون کا اچھا خاصا تناظر مصنف کی ذات سے عبارت ہوا کرتا ہے۔ اگر تنقید متن، اس کے تناظر اور تناظر سے جڑے مصنف کو اپنے دائرہ کار میں لاتا ہے تو کسی کو معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے۔ شاعری میں عارف شفیق کی اتنی اہمیت بن چکی ہے کہ تناظر کو زیر بحث لانے سے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیوں کہ اس تناظر سے جتنے اثرات مرتب ہونے تھے وہ ان کی شاعری پر ہوچکے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : عارف شفیق کا یوم وفات
——
اس تناظر کی وجہ سے ان کی شاعری میں جتنی زیادہ عملیت پیدا ہوئی ہے اتنی ہی زیادہ فکری طور پر یہ محدود بھی ہوئی ہے۔ عارف شفیق کراچی کی نمایندگی کرنے والے ایک بڑے شاعر ہیں۔ بڑے شاعروں کے بھی کچھ کم زور گوشے ہوتے ہیں جو تنقید کی زد میں آیا کرتے ہیں‘ یہ اَن ہونی بات نہیں ہے۔میں یہاں شہرۂ آفاق شاعر ٹی ایس ایلیٹ کی مثال دینا چاہتا ہوں‘ ان پر اپنی چند نظموں میں یہود دشمنی کے حوالے سے بہت سخت تنقید ہوئی اور اس پر کتابیں بھی لکھی گئیں۔ عہد حاضر کے اہم ادبی نقاد ٹیری ایگلٹن نے ایلیٹ پر تنقید کا دفاع کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے کر (پروسپیکٹ میگزین میں کریگ رین کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے) کہا تھا کہ ’’ٹی ایس ایلیٹ کی بہ طور شاعر عظمت تمام شکوک سے ہٹ کر مستحکم ہوچکی ہے‘ تو نقاد آخر کیوں زن بیزاری اور یہود دشمنی کے تمام الزامات کے خلاف اس کے دفاع کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔‘‘
میری رائے میں عارف شفیق کی سیاسی جدوجہد اور ان کی شاعری میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ اس تعلق سے خوبیاں بھی جنم لیتی ہیں اور خامیاں بھی۔ کسی کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ عارف شفیق میں اس نے بہ طور انسان تعصب نہیں پایا۔ اگر ان کی شاعری میں اس کے ٹریسز ملتے ہیں تو تنقید کا نشانہ بنیں گے اور اس کے بے جا دفاع کی ضرورت نہیں ہے۔ ’مرے کشکول میں ہیں چاند سورج‘ ہی کی ایک غزل میں انھوں نے پختونوں کو اسی طرح ہدف بنایا ہے جس طرح ایلیٹ نے یہودیوں کو بنایا۔ یہ غزل مزدوری کے لیے آنے والوں کو ایک ولن کے طور پر پیش کرتی ہے۔ صفحہ ننانوے کی اس غزل کے یہ اشعار ملاحظہ کریں:
——
پھر مرے شہر پہ قبضہ جمانے آئے تھے
تجھے جو قائد ملت ہرانے آئے تھے
انھی نے شہر کا امن و اماں بھی لوٹ لیا
جو میرے شہر میں دولت کمانے آئے تھے
یہ کہہ رہے ہیں کہ ہتھیار ان کا زیور ہے
انھیں خبر نہیں کس کو ڈرانے آئے تھے
نہتے لوگوں پہ جو گولیاں چلاتے ہیں
یہاں وہ گاؤں سے ویگن چلانے آئے تھے
یہ اپنے اپنے علاقوں سے بھاگ کر عارف
کراچی شہر میں کیا گل کھلانے آئے تھے
——
ہم میں سے ہر شخص اپنے مذہبی، لسانی یا سیاسی تعصبات کے ساتھ جیتا ہے۔ جب ان تعصبات کا اظہار ہوتا ہے تو اظہار کی نوعیت کے مطابق اس پر تنقید و توصیف کا اطلاق ہوتا رہتا ہے۔ عارف شفیق کی شاعری کو کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ شاعری اپنا مقام بناچکی ہے۔ اس پر ہونے والی تنقید اس کے جوہر کو منکشف کرنے میں معاون ہوتی رہے گی۔
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
جب نظر کے سامنے روضہ کا منظر آئے گا
خود بخود میری زبان پر ذکر سرور آئے گا
دیکھنا ہے سایہ احمد تو دیکھو عرش پر
آسماں کا سایہ آخر کیوں زمیں پر آئے گا
مجھ کو نسبت ہے محمد سے ، نہیں دنیا کا خوف
مجھ سے ٹکرائی تو گردش کو بھی چکر آئے گا
تیرگی کو کاٹ دے گی جنبشِ نوکِ قلم
روشنی کے ہاتھ میں کرنوں کا خنجر آئے گا
جو محمد کے نہیں نظریں جھکا کر جائیں گے
مدحِ خوانِ مصطفیٰ تو سر اٹھا کر آئے گا
آنکھ میں بھر لوں گا میں تو شربتِ دیدار کو
جام بھرنے جب مرا ساقیِ کوثر آئے گا
جس کے دل میں آئے گا عارفؔ ، محمد کا خیال
بخت کی تاریکیوں میں مثلِ خاور آئے گا
——
پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے کیوں مرا نام و نسب
سوچ لیں ، پیغمبروں سے سلسلہ مل جائے گا
——
دھنک کے رنگ بہت عام ہو گئے عارفؔ
تم اپنے رنگ کو ہر رنگ سے جدا رکھنا
——
آنکھوں میں جاگ اٹھے ہیں تنہا شجر کے دکھ
گلدان میں جو پھول سجے دیکھتا ہوں میں
——
مرے دکھوں کو یہ سمجھے نہ شاعری کو مری
یہاں کے لوگوں کا احساس بھی تجارتی ہے
——
اکثر سب کو رستہ دینے والے لوگ
میری طرح سے خود پیچھے رہ جاتے ہیں
——
زندہ رہنے کی اک اندھی خواہش میں
اپنی قبروں پر کتبے لکھواتے ہیں
——
جب کوئی اہم فیصلہ کرنا
اپنے بچوں سے مشورہ کرنا
میں نے سیکھا ہے اپنے بچوں سے
سچ کا اظہار برملا کرنا
——
غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی
——
یہ بھی پڑھیں : نہ لاتی نرم سماعت ہی تاب، ممکن تھا
——
پھر مرے شہر پہ قبضہ جمانے آئے تھے
تجھے جو قائد ملت ہرانے آئے تھے
انھی نے شہر کا امن و اماں بھی لوٹ لیا
جو میرے شہر میں دولت کمانے آئے تھے
یہ کہہ رہے ہیں کہ ہتھیار ان کا زیور ہے
انھیں خبر نہیں کس کو ڈرانے آئے تھے
نہتے لوگوں پہ جو گولیاں چلاتے ہیں
یہاں وہ گاؤں سے ویگن چلانے آئے تھے
یہ اپنے اپنے علاقوں سے بھاگ کر عارفؔ
کراچی شہر میں کیا گل کھلانے آئے تھے
——
جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی
تو پھر یہ جان کہ تو نے پیمبری کر لی
تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر
ترے بغیر بسر میں نے زندگی کر لی
پہنچ گیا ہوں میں منزل پہ گردش دوراں
ٹھہر بھی جا کہ بہت تو نے رہبری کر لی
جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی
جو سچی بات تھی وہ میں نے برملا کہہ دی
یوں اپنے دوستوں سے میں نے دشمنی کر لی
مشینی عہد میں احساس زندگی بن کر
دکھی دلوں کے لیے میں نے شاعری کر لی
غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی
——
جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا
میں نے اپنے لہجے کو تلوار کیا
میں نے اپنے پھول سے بچوں کی خاطر
کاغذ کے پھولوں کا کاروبار کیا
میری محنت کی قیمت کیا دے گا تو
میں نے دشت و صحرا کو گلزار کیا
میں فرہادؔ یا مجنوں کیسے بن جاتا
میں شاعر تھا میں نے سب سے پیار کیا
اس کی آنکھیں خواب سے بننے لگتی ہیں
جب بھی میں نے چاہت کا اظہار کیا
اپنے پیچھے آنے والوں کی خاطر
میں نے ہر اک رستے کو ہموار کیا
اس کے گھر کے سارے لوگ مخالف تھے
پھر بھی عارفؔ اس نے مجھ سے پیار کیا
——
یہ بھی پڑھیں : رسول اعظم نبی رحمت درود تم پر سلام تم پر
——
ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے
تجھے تیری مجھے میری ضرورت کھینچ لاتی ہے
چھپا ہے جو خزانہ تہہ میں ان بنجر زمینوں کی
اسے باہر زمیں سے میری محنت کھینچ لاتی ہے
میں ماضی کو بھلا کر اپنے مستقبل میں زندہ ہوں
نگاہوں سے ہے جو اوجھل بشارت کھینچ لاتی ہے
مرا دشمن مری آنکھوں سے اوجھل ہو نہیں سکتا
مرے نزدیک اس کو دل کی نفرت کھینچ لاتی ہے
سمندر پار جانے والے اک دن لوٹ آئیں گے
مرا ایماں ہے مٹی کی محبت کھینچ لاتی ہے
جو اپنا گھر کسی کے عشق میں برباد کرتے ہیں
انہیں صحرا میں ان کے دل کی وحشت کھینچ لاتی ہے
کبھی ہوتا ہے جو ویران میرے شہر کا مقتل
کسی منصور کو عارفؔ صداقت کھینچ لاتی ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات