بکعبہ رفتم و ز آنجا ہوائے کوئے تو کردم
جمالِ کعبہ تماشا بیادِ روئے تو کردم میں کعبہ گیا اور وہاں سے بھی تیرے ہی کوچے کی آرزو کی، میں نے جمالِ کعبہ کا نظارہ بھی تیرے ہی چہرے کی یاد میں کیا
معلیٰ
جمالِ کعبہ تماشا بیادِ روئے تو کردم میں کعبہ گیا اور وہاں سے بھی تیرے ہی کوچے کی آرزو کی، میں نے جمالِ کعبہ کا نظارہ بھی تیرے ہی چہرے کی یاد میں کیا
فضلِ خدا چہ کم شود، گر برسد بہ کافرے بحرِ کرم کو کیا بھی فرق پڑتا ہے اگر اس میں سے ایک گھونٹ لے لیا جائے تو، فضلِ خدا کیا بھی کم ہوگا اگر وہ کسی کافر پر بھی ہو جائے تو
جس میں حبیبِ پاک کا چہرہ دکھائی دے ہر شئے میں مصطفی کا ہی جلوہ دکھائی دے انوارِ ایزدی کا سراپا دکھائی دے آنکھوں کو میری وصف وہ کردے عطا خدا کعبہ دکھائی دے کبھی طیبہ دکھائی دے طیبہ میں دفن ہوں تو مجھے خلد میں فداؔ ان کے قریب اپنا ٹھکانہ دکھائی دے رو […]
سنگی بزن، تلخی بگو، تیغی بکش، کاری بکن اب جب کہ میں نے تجھے تنہا دیکھ ہی لیا ہے تو تُو اگر مجھ پر لطف و کرم نہیں کرتا تو کوئی تکلیف کوئی آزار ہی پہنچا دے، کوئی پتھر مار، کچھ تلخ باتیں کر، تلوار کھینچ، کام تمام کر دے
سودائے تو خالی کرد، از سر ہمہ سودائے تیری امید نے میرے دل سے ہر طرح کی امیدوں کو نکال باہر کیا اور تیرے خیال و فکر و جنون نے میرے سر کو ہر طرح کے خیال و فکر و جنون سے خالی کر دیا
پاک داماں آمدم، آلودہ داماں می روم تیرے (بے رحم اور ظالم) کوچے (دنیا) سے ہم خونِ دل کے سوا اور کچھ بھی نہیں لے چلے، پاک دامن آئے تھے اور (خون سے) آلودہ دامن کے ساتھ جاتے ہیں
روئے بر دوست کن و پشت بدیوار نشیں (لکڑی اینٹ پتھر کے) درِ کعبہ پر بیٹھنے سے کیا بھی حاصل ہوگا، (لہذا) درِ یار پر بیٹھ، اپنا چہرہ دوست کی طرف کر اور دیوار کی طرف پشت کر کے بیٹھ۔
دم بھر بھی ہم اس دم کا بھروسہ نہیں کرتے
یہ رات آئی کہ سر پہ مرے عذاب آیا
ہزاروں سوچ کر مضمون ہم دربار میں آئے