ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے​

جس میں حبیبِ پاک کا چہرہ دکھائی دے​ ہر شئے میں مصطفی کا ہی جلوہ دکھائی دے​ انوارِ ایزدی کا سراپا دکھائی دے​ آنکھوں کو میری وصف وہ کردے عطا خدا​ کعبہ دکھائی دے کبھی طیبہ دکھائی دے​ طیبہ میں دفن ہوں تو مجھے خلد میں فداؔ​ ان کے قریب اپنا ٹھکانہ دکھائی دے​ رو […]

اکنوں کہ تنہا دیدمت، لطف ار نہ، آزاری بکن

سنگی بزن، تلخی بگو، تیغی بکش، کاری بکن اب جب کہ میں نے تجھے تنہا دیکھ ہی لیا ہے تو تُو اگر مجھ پر لطف و کرم نہیں کرتا تو کوئی تکلیف کوئی آزار ہی پہنچا دے، کوئی پتھر مار، کچھ تلخ باتیں کر، تلوار کھینچ، کام تمام کر دے

اُمّیدِ تو بیروں بُرد، از دل ہمہ اُمّیدے

سودائے تو خالی کرد، از سر ہمہ سودائے تیری امید نے میرے دل سے ہر طرح کی امیدوں کو نکال باہر کیا اور تیرے خیال و فکر و جنون نے میرے سر کو ہر طرح کے خیال و فکر و جنون سے خالی کر دیا

از درِ کعبہ چہ حاصل، بہ درِ یار نشیں

روئے بر دوست کن و پشت بدیوار نشیں (لکڑی اینٹ پتھر کے) درِ کعبہ پر بیٹھنے سے کیا بھی حاصل ہوگا، (لہذا) درِ یار پر بیٹھ، اپنا چہرہ دوست کی طرف کر اور دیوار کی طرف پشت کر کے بیٹھ۔