دو عالم از کتابِ قُدرتِ اُو یک وَرَق باشد
بوَد زاں یک ورق یک نکتۂ عشق انتخابِ من اُس کی کتابِ قدرت (کائنات) میں دو عالم ایک ورق کے مصداق ہیں، اور اِس ایک ورق (دو عالم) میں سے میرا نتخاب بس ایک نکتۂ عشق ہے
معلیٰ
بوَد زاں یک ورق یک نکتۂ عشق انتخابِ من اُس کی کتابِ قدرت (کائنات) میں دو عالم ایک ورق کے مصداق ہیں، اور اِس ایک ورق (دو عالم) میں سے میرا نتخاب بس ایک نکتۂ عشق ہے
التفاتِ عام بسیار از تغافل بدتر است تیرا رسمی طور پر پُرسشِ احوال کرنا ہمارے درد کو اور زیادہ کر دیتا ہے پس (ہمارے لیے تیرا) التفاتِ عام اور رسمی بات چیت تیرے تغافل سے بھی بدتر ہے
در پردۂ عشق محرمے یافتہ ام عالم چہ کنم کہ از دو عالم بہتر در سینۂ خویش عالمے یافتہ ام مجلسِ اُلفت میں مجھے اِک ہمدم مل گیا ہے، اور عشق کے پردے میں مجھے اپنا محرم مل گیا ہے میں جہان کو کیا کروں کہ دونوں جہانوں سے بہتر میں اپنے ہی سینے میں […]
دل بد مکن کہ شش جہت از بہرِ طاعت است چاہے تُو اپنا چہرہ کعبے کی طرف کر اور چاہے سومنات کی طرف لیکن دل بُرا مت کر (سوئے ظن اور بد گمانی مت رکھ) کہ چھ کی چھ جہات (ساری سمتیں) اطاعت کے لیے ہی ہیں
چوں گذری بخاکِ من، زندہ شوم ببوئے تو تُو اگر مجھے مارنا چاہتا ہے تو مجھے بھی موت کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے، کیونکہ تُو جب بھی میری خاک پر سے گزرے گا میں تیری خوشبو سے زندہ ہو جاؤں گا
چشم بسوئے تو بُود، گوش بدیشاں نرفت دُشمنوں نے بہت سے طعنے مارے، دوستوں نے بہت نصیحتیں کیں، آنکھیں تو تیری طرف لگی ہی تھیں، کانوں نے بھی اُن (دوستوں دشمنوں) کی کوئی بات نہ سُنی
شرطِ عشق است کہ تا ایں نشود آں نشود جب تک تُو غم میں جان نہیں دے گا تب تک محبوب کا وصل بھی حاصل نہ ہوگا، یہ عشق میں لازم ہے اور عشق کا دستور ہے کہ جب تک یہ (جان دینا) نہ ہوگا تب تک وہ (وصل) بھی نہ ہوگا
حَبّہ تا فانی نگردد کی بر آرد برگ و بار جب تک تُو اپنے آپ کو فنا نہیں کر لیتا تُو (ازلی) دوست کے ساتھ کب باقی رہے گا، دانہ جب تک (خاک میں مل کر) فنا نہیں ہو جاتا وہ برگ و بار کب لاتا ہے
ندارد گوشۂ از گوشۂ چشمِ تو دلکش تر وہ بہشت کہ جس کے خیالوں سے زاہد کی نیندیں حرام ہوئی جاتی ہیں اُس میں کوئی گوشہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جو تیرے گوشۂ چشم سے دلکش تر ہو
متاع کاسِد و بازار ناروا اینجاست میں (دنیا میں) جہاں کہیں بھی جاتا ہوں اخلاص و وفا کے خریدار و قدر دان موجود پاتا ہوں لیکن اس جگہ (میرے دیار میں جہاں میرا محبوب ہے) یہ اخلاص و وفا ایک ناقص و نارائج (آؤٹ آف فیشن قسم کی) چیز ہے اور اِس کا بازار نامناسب […]