آپ آئے ہیں تو محفل پہ شباب آیا ہے

بزم ہستی کا ہوا حسن نمایاں تجھ سے سر بلند اور ہوا دہر میں آدم کا وقار ارجمند اور ہوئی عظمت انساں تجھ سے وہ تگ و تاز کہ دی تیزی دوراں کو شکست وہ تب و تاب کہ سایہ تھا گریزاں تجھ سے خفت عجز سے کفر اور نگوں سار ہوا استوار اور ہوئی […]

آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے

سر انُ کے قدموں میں رکھ کر جھک کر جینا کیسا ہے گنبدِ خضریٰ کے سائے میں بیٹھ کر تم تو آئے ہو اس سائے میں رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے دل آنکھیں اور روح تمہاری لگتی ہیں سیراب مجھے ان کے در پہ بیٹھ کے آبِ زمزم پینا کیسا ہے دیوانو! آنکھوں […]

یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے

خدا کی قسم ان کو موجود پایا جو سر کو جھکایا سویرے سویرے سراپا یہ رحمت یہ شانِ محبت میں قربان جاوؔں بہ نظرِ عنایت کبھی شامِ خم تم تصور میں آئے کبھی رُخ دکھایا سویرے سویرے امیں کو ہوا حکم جائے ادب سے کہے جاکے یوں میرے امتی لقب سے مبارک تمہیں ہو، یہ […]

یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے

رحمتِ دو جہاں اک تری ذات ہے اے حبیبِ خدا تیری کیا بات ہے روحِ کون ومکاں پہ نکھار آ گیا روحِ انسانیت کو قرار آگیا مرحبا مرحبا ہر کسی نے کہا، آمدِ مصطفےٰ تیری کیا بات ہے حضرت آمنہ کے دُلارے نبی، غمزدہ اُمتّوں کے سہارے نبی روزِ محشر کہے گی یہ خلقِ خدا، […]

یادِ سرکار کی لے کے ہم روشنی یاں سے سُوئے مدینہ اگر جائیں گے

دل کی دنیا میں ہوگی عیاں روشنی اپنے بگڑے مقدر سنور جائیں گے پڑھ کے میں سورہ نور کرنے لگی ذکرِ روئے منور سرِ شام جب ظلمتیں چیخ اٹھیں پیٹ کر اپنا سر، ہائے اب ہم کہاں اور کدھر جائیں گے اِک طرف ماہ وانجم کی جلوہ گری، اک طرف طلعتِ روئے نورِ خدا چاند […]

یا رسول اللہ تیرے در کی فضاوؔں کو سلام

گنبدِ خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاوؔں کو سلام والہانہ جو طواف روضئہ اقدس کرے مست وخود وجد میں آتی اُن ہواوؔں کو سلام جو مدینے کی گلی کوچوں میں دیتے ہیں صدا تا قیامت اُن فقیروں اور گاوؔں کو سلام مانگتے ہیں جو وہاں شاہ وگدا بے امتیاز دل کی ہر دھڑکن میں شامل اُن […]

ہنستا رہتا ہوں اور خوشی کم ہے

زندگی میں بھی زندگی کم ہے کیا ہوا تجھ کو میرے شہرِ سخن شعر اتنے ہیں ، شاعری کم ہے کتنا لمبا ہے ہجر کا رستہ تیری یادوں کو ڈائری کم ہے ٹھوکریں لگ رہی ہیں کیوں اتنی آنکھ بند ہے کہ روشنی کم ہے میں بھی عادی سا ہوگیا غم کا تیرے چہرے پہ […]

ہر اک سے آنکھ ملاؤگے، مارے جاؤ گے

ہر اک سے آنکھ ملاؤ گے، مارے جاوٗ گے زیادہ بوجھ اٹھاؤ گے، مارے جاوٗ گے کوئی نہیں ہے یہاں اعتبار کے قابل کسی کو حال سناؤ گے ،مارے جاؤ گے ہر ایک شاخ پہ چھڑکا ہوا ہے زہر یہاں شجر کو ہاتھ لگاؤ گے ، مارے جاوٗ گے دھوئیں میں ملنا مقدر ہے ان […]