مدینے جو چلنے کا وقت آرہا ہے

گناہوں کے دُھلنے کا وقت آرہا ہے طلا ہوں محمد کے روضے کی جانب کہ قسمت چمکنے کا وقت آرہا ہے قدم بہ قدم دل مچلتا ہے میرا مدینے میں بسنے کا وقت آرہا ہے وہ چھائیں گھٹائیں، گھٹا ٹوپ سر پر کہ رحمت برسنے کا وقت آرہا ہے شفا مجھ کو خاک مدینہ سے […]

قسیم ِ نور و تجلی کی ذات روشن ہے

قسیمِ نور و تجلی کی ذات روشن ہے سراپا حاملِ حسنِ صفات روشن ہے حریمِ جاں میں ہے عشقِ شہِ امم کا چراغ سو میرے دل کی ابھی کائنات روشن ہے رخِ نبی سے منور ہوئی ہے صبحِ ازل گھنیری زلف کے سائے میں رات روشن ہے اٹھی جو روشنی غارِ حرا سے حکمت کی […]

قرب انوار مدینہ سے چمکتا ہُوا دِل

چاند تاروں سے سوا خود کو سمجھتا ہُوا دِل آج چہکا ہے مدینے کے کبوتر کی طرح گنبدِ سبز کے اطراف میں اُڑتا ہُوا دِل اپنی قسمت پہ بہت ناز کِیا کرتا ہے حرمِ پاک کےاِک طاق میں رکھا ہُوا دِل مجھ سے پہلے درِ احمد سے لپٹنا ہے اسے میرے قابو میں کہاں ہے […]

رہ خیر الوری میں روشنی ہے

یہاں ہر ایک گاہ میں روشنی ہے کوئی بھی راستہ دھندلا نہیں ہے وہ انکے نقش پا میں روشنی ہے خدا کا گھر بھی دیکھو جگمگایا عجب بدرالدجٰی میں روشنی ہے ہر اک ہے گوشہ گوشہ تاباں تاباں رہ شمس الفجٰی میں روشنی ہے ہوئے روشن مکاں و لا مکاں ہیں وہ روئے والضحی میں […]

دن گذریں مدینے میں راتیں ہوں مدینے کی

"جینا ہو اگر ایسے کیا بات ہو جینے کی” نظریں ہیں مدینہ پر نظروں میں مدینہ ہے سانسوں میں مدینہ ہے سانسیں ہیں مدینے کی کیا خوب ہے یہ ایقاں؛ میخوارِ مئی عرفاں جاتے ہیں مدینے کو خواہش ہو جو پینے کی آقا پہ بھروسہ ہے آقا کا سہارا ہے کیا ذکر ہے طوفاں کا […]

دلا خاک رہ کوئے محمد شو محمد شو

زہر سوئے بیا سوئے محمد شو محمد شو بہر دم سجدہ جاں سوئے ابروئے محمد کن بروئے قبلہ ردئے محمد شو محمد شو تجرد پیشہ گیر از قید عالم وارہاں خودار اسیر حلقہ موئے محمد شو محمد شو با خلاق الہی متصف بودن اگر خواہی سراپا سیرت و خوئے محمد شو محمد شو بکن خالی […]

درہم کی طلب ہے نہ ہی دینار کی خواہش

ہے دولتِ نظّارۂِ بیزار کی خواہش جب خاکِ کفِ پائے شہِ دیں ہو نظر میں پھر کون کرے بارشِ انوار کی خواہش مل جائے مجھے گر خس و خاشاکِ مدینہ میں وار دوں اُس پر گل و گلزار کی خواہش ہو دستِ سکوں سینئہ صد چاک پہ آقا اب مجھ کو نہیں مرہمِ زنگار کی […]

خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

نظر ہے شاہِ دوعالم کے آستاں کی طرف تمام نبضِ دو عالم ٹھہر گئی اس دم چلے جو سیّدِ کونین لامکاں کی طرف یہ دھوپ حشر کی جھلسائے گی مجھے کیسے ٹھکانہ میرا ہے جب اُن کے آستاں کی طرف نہ جانے کس گھڑی آ جائے گا پیامِ اجل اے زیست لے کے تُو چل […]

خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں

کیا لطف آ رہا ہے سحر کی اذان میں مجھ کو ملی امان ہے جس گلستان میں صدقے کروں میں جان اسی آستان میں میں نے وہیں پہ سجدہ الفت ادا کیا جس گھر میں آپ عرش سے آئے جہان میں اللہ اے اوج و مرتبہ میرے حضور کا مہماں ہوئے وہ عرش کے اعلیٰ […]