خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا

تیرے قدموں کی صدا دِل میرا گنبدِ سبز پہ تاروں کا ہجوم اور سرِ بابِ دُعا دِل میرا صبح کے ساتھ جھکی شاخِ گلاب شاخ کے ساتھ جھکا دِل میرا لوح در لوح ترے نقشِ قدم حرف در حرف لکھا دِل میرا ڈوبتی رات کے سنّاٹے میں اِک کتاب ،ایک دیا دِل میرا روشنی طاقِ […]

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے

التفاتِ شافع روزِ جزا درکار ہے اور اس کو چاہیے کیا اور کیا درکار ہے وہ نبی کا ہو رہے جس کو خدا درکار ہے جو مجھے لے جائے ان کے آستانِ پاک تک وہ تمنا، وہ طلب، وہ مدعا درکار ہے دل تو ہے آباد محبوبِ خدا کی یاد سے میری آنکھوں کو جمالِ […]

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

جبین عقیدت کو خم دیکھتے ہیں میں لیتا ہوں نام ان کا گر میکدے میں مجھے کس نظر سے صنم دیکھتے ہیں یہ گلکاریاں کب ہیں آساں قلم کی قلم کا ہوا سر قلم دیکھتے ہیں تری اک نگاہِ کرم ہو تو پھر ہم قیامت کے فتنہ کو کم دیکھتے ہیں جنھیں تو نے دل […]

جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں

وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں فقط حضور کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں زمیں جو زیرِ قدم آئے آسماں ٹھہرے وہ رازِ ربّ دو عالم چھپائے […]

جنہیں تیرا نقش قدم ملا، وہ غم جہاں سے نکل گۓ

یہ میرے حضور کا فیض ہے کہ بھٹک کے ہم جو سنبھل گۓ پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد ہو تیرے کرم کا جواب کیا تیری رحمتوں کا حساب کیا تیرے نام نامی سے غم کدوں میں چراغ خوشیوں کے جل گۓ پڑھو صل علی نبینا صل […]

ثنائے محمد کئے جا رہا ہوں

اسی آسرے پہ جئے جا رہا ہوں تصوّر میں دن رات جامِ محبت پلاتے ہیں وہ میں پئے جا رہا ہوں محمد کا صدقہ درِ کبریا سے میں بھر بھر کے جھولی لیے جا رہا ہوں کٹے میری ہر سانس یادِ نبی میں دعا یہ خدا سے کئے جا رہا ہوں ندیم اب عمل پاس […]

ثنائے ربِ جلیل ہے اور روشنی ہے

نبی کا ذکرِ جمیل ہے اور روشنی ہے جہاں جہاں بھی حضور اکرم نے پاؤں رکھا قدم قدم اک دلیل ہے اور روشنی ہے چہار سُو ہے کبوتروں کا حصارِا بیض سفید سی اک فصیل ہے اور روشنی ہے حیات کی یا ممات کی آزمائشیں ہوں وہی کفیل و وکیل ہے اور روشنی ہے وہیں […]

تھی کس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی

قدرت نے اسے راہ دکھائی تیرے در کی میں بھول گیا نقش و نگار رخ جنت صورت جو کبھی سامنے آئی تیرے در کی پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا ہم نے جسے تصویر دکھائی تیرے در کی رویا ہوں میں اس شخص کے پاؤں سے لپٹ کے جس نے بھی کوئی بات […]

توں سلطان زمانے بھر دا میں بردے دا بردا

فکر عذاباں دے وچ بھلیا رستہ تیرے گھر دا تیری نعت نوں غزل بناندا دل سی داہڈا کردا دسن وال گل نئیں کوئی کاسہ نئیں پیا بھردا ساڈی دھرتی نظر کرم دی ہے محتاج قدیمی ساڈی فریاداں نوں مولا بخشو فیض اثر دا جتھے نعت نبی دی ہووے ، اوتھے اوس دا جلوہ چھوٹی وڈی […]

توصیفِ نبی کرتا رہوں بس ایسے گزر دن رات کروں

ہر لمحہ و ساعت، شام و سحر، محبوبِ خدا کی بات کروں کچھ خواہش تاج و تخت نہیں، بس دل میں یہ حسرت ہے آقا بن جاؤں تمہارے در کا گدا خوش ہو کے گزر اوقات کروں غم اور اداسی اے آقا! ہوتی ہی چلی جاتی ہے سوا اب جلد بلا لیجیے در پر! خدمت […]