وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد

وہ والی و مولا ہمارے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ احمد، وہ حامد، وہ ماحی، وہ محمود وہ سرور ، وہ ماوی، ہمارے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ ہادی و مہدی ، وہ داعی و امی ہمارے سہارا ، ہمارے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و […]

ولی دکنی ، سوانح اور حالاتِ زندگی

ولی کے حالاتِ زندگی کے بارے میں اب تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکی۔ ولی دکنی کے نام، ان کے آبائی وطن اور حتٰی کہ اُردو شاعری میں اُن کا باوا آدم ہونے میں بھی تذکرہ نگاروں کے بیانات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ولی دکنی کے نام سے متعلق بھی ابہام پایا […]

ولی دکنی

سوانح ولیؔ دکنی ولی کے حالاتِ زندگی کے بارے میں اب تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکی۔ ولی کے نام، ان کے آبائی وطن اور حتٰی کہ اُردو شاعری میں اُن کا باوا آدم ہونے میں بھی تذکرہ نگاروں کے بیانات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ولی کے نام سے متعلق بھی ابہام […]

واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے

کیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہے جس کو دیکھو وہ نور کا بقعہ یے پرستان ہے کہ لندن ہے عبث ان کو مسیح کہتے ہیں مار رکھنے کا ان میں لچھن ہے حسن دکھلا رہا ہے جلوۂ حق روئے تاباں سے صاف روشن ہے رسم الٹی ہے خوب رویوں میں دوست جس کے بنو وہ […]

نہ مہر و ماہ نہ ہی کہکشاں سے نسبت ہے

ہمیں تو آپ کے پا کے نشاں سے نسبت ہے جہان کن فیکوں کا وجود آپ سے ہے نبی کے قدموں کی سارے جہاں سے نسبت ہے کہاں میں اور کہاں نعت پاک کی عظمت میں ذرہ ہوں جی! مجھے آسماں سے نسبت ہے غرض ہے کیا ہمیں دنیا کے تاجداروں سے ہمیں تو آپ […]

می نمایند ہمی گنبدِ دستارِ سفید

لیک غافل ز درونہائے سیہ کارِ خودند (ریا کار) اپنی اس سفید دستار کے گنبد کی تو بہت نمائش کرتے ہیں اور اسے نمایاں کرتے ہیں لیکن اس کے اندر، اپنی سیاہ کاریوں سے مکمل طور پر غافل ہیں

مقدر جگمگانے کو نبی کا نام کافی ہے

مری قسمت جگانے کو نبی کا نام کافی ہے نہ تحت و تاج کی حاجت ، نہ مال و زر کی چاہت ہے مرے سارے گھرانے کو نبی کا نام کافی ہے محمد نام لینے سے سکونِ قلب ملتا ہے دلِ مضطر بہلانے کو نبی کا نام کافی ہے متاعِ کل کیا قرباں ، کہا […]

عیدِ میلاد ہے آج کونین میں ، ہر طرف ہے خوشی عیدِ میلاد کی

سب کہو آمدِ مصطفٰی مرحبا ، ہے سہانی گھڑی عیدِ میلاد کی یہ فرشتوں کے لشکر ، یہ نوری سماں ، جشنِ میلاد پر خوش ہے سارا جہاں نور ہی نور ہے آج چھایا ہوا ، ہے ہمیں بھی خوشی عیدِ میلاد کی مصطفی آ گئے ، مجتبٰی آ گئے، ساری مخلوق کے رہنما آ […]

عالمِ دیگر بہ دست آور کہ در زیرِ فلک

گر ہزاراں سال می مانی ہمیں روز و شب است اگر تُو تغیر و تبدیلی چاہتا ہے تو کوئی نیا جہان پیدا کر کیونکہ اِس آسمان کے تلے اگر تُو ہزاروں سال بھی زندہ رہے گا تو یہی شب و روز ہونگے