گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے

یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے یہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے پشیمان توبہ سے ہوگا عدم میں کہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے نہ رکھی […]

کیسی کیسی خبر نہیں آتی

بس کہ فرحت اثر نہیں آتی جس سے مجھ کو رسائیِ منزل اک وہی رہ گزر نہیں آتی چاکِ داماں کی خیر ہو یا رب منتِ بخیہ گر نہیں آتی اچھی قسمت عطائے فطرت ہے کچھ بزور و بزر نہیں آتی ظلمتیں کیسی دل پہ ہیں طاری اس طرف کیا سحر نہیں آتی آدمی ہر […]

کوچہِ ویران ہائے سینہِ خاموش سے

دل دھڑکنے سے ابھرتی تھی جو آہٹ بھی گئی گر چکا ہے دور دھرتی پر شہابِ آرزو آسمانِ منتظر سے سنسناہٹ بھی گئی لب کشیدہ رہ گئے ہیں بس لکیروں کی طرح عشق کے گوتم کی آخر مسکراہٹ بھی گئی بے ثمر نکلا ہے میرا سن رسیدہ لمس پھر رائیگاں کورے بدن کی کسمساہٹ بھی […]

کس نفاست سے اور قرینے سے

رات اتری فلک کے زینے سے ساحلی بستیوں کا شورہیں ہم دور ہو جائیں گے سفینے سے جھڑ گئے زندگی کی پائل سے ہائے کیا لوگ تھے نگینے سے چاک وحشت کے بھر نہیں پائے تُو ابھی جھانکتا ہے سینے سے چشمِ حیراں میں خواب کے سوتے سوکھ جاتے ہیں اشک پینے سے کانچ کے […]

کام کوئی تو جنوں زاد کے سر رہنے دے

اب کے دیوار اٹھاتا ہے تو در رہنے دے ربط ہر چند فقط ایک تاثر ہی سہی اور کچھ دیر مجھے زیرِ اثر رہنے دے بے سبب دید کے ہیجان میں مر جائے گا جب نہیں تابِ نظارہ تو نظر رہنے دے تو نے پہلے بھی تو رہنے ہی دیا تھا مجھ کو اب بھی […]

کائناتِ رنگ و بُو سے ہجر کا مشتاق ہوں

میں جنوں کی منطقوں کا عشق پر اطلاق ہوں میں رخِ پُر نور ہائے حسن کا غازہ بھی ہوں دوسری جانب ، نگاہِ حیرتِ عشاق ہوں عین ممکن ہے کہ ان پر لب کشائی بھی کروں میں ابھی جن الجھنوں پہ محوِ استغراق ہوں موجزن فکرِ رساء میں ہے نمُو کا معجزہ میں بھلے دشتِ […]

چَھن رہی ہے بند پلکوں سے بھی غم کی روشنی

ڈھانپئے کیسے شکستِ خواب کی عریانیت کیا بھلا ممکن جوازِ ترکِ راہِ آرزو فہم سے بالا رہی ہے جستجو کی ماہیت دست بستہ سرنگوں ہے بے نیازی حسن کی کس قدر بارعب ہوگی عشق کی آفاقیت آنکھ میں جو عکس ہے وہ دیکھ سکتے ہیں سبھی حرفِ سادہ لوح میں ہے کانچ سی شفافیت آخرِ […]

پھر رائیگاں گئے ہیں ستم ساز گونج کر

رزقِ ہِوا ہوئے مرے الفاظ گونج کر کوئی دیارِ عشق میں ہوتا تو بولتا آخر کو رہ گئی مری آواز گونج کر اس خوش نوائے خواب کی سنگت نہیں ملی خاموش ہو چکا ہے مرا ساز گونج کر میں تھا ہی ایک نعرہِ مستانہِ جنوں معدوم ہو گیا ہوں بصد ناز گونج کر بد نیتوں […]

وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے بھرے کیا؟

اب عشق بھلا اور کرامات کرے کیا؟ یہ ضِد مری ہم عمر رہی ہے کہ میں دیکھوں منظر ہے بھلا حدِ بصارت سے پرے کیا؟ کیا سوچ کے سینچے ہیں یہ صدمات لہو سے؟ ہو جائیں گے اس طور ترے پات ہرے کیا؟ اک تارِ تنفس ہے کہ لے دے کے بچا ہے دل یہ […]

نفسیاتِ طالبِ دیدار ، پیچیدہ سہی

دید کھوئی تو نہیں ہے آنکھ نم دیدہ سہی ہنس دیا ہوں شوق کی کھلتی ہوئی اوقات پر لاکھ موضوعِ شکستِ خواب سنجیدہ سہی فرش میں دھنستے ہیں جیسے خوف کے مارے قدم آخرِ امید کا عفریت خوابیدہ سہی آج بھی آتا ہے دل معصومیت کے دام میں رائیگانی ، اب بزعمِ خود جہاندیدہ سہی […]