سرکار سے اُمیدِ نظر لے کے چلا ہوں
دیکھو تو نیا زادِ سفر لے کے چلا ہوں اُن کو بھی دکھا دوں دلِ مضطر کی میں حالت بے تاب ہتھیلی پہ جگر لے کے چلا ہوں اب خواہشِ نفسانی مجھے روکے گی کیسے میں سیرتِ آقا سے اثر لے کے چلا ہوں پھر لوٹ کے آنے کا ارادہ نہیں میرا ساتھ اپنے دل […]