سرکار سے اُمیدِ نظر لے کے چلا ہوں

دیکھو تو نیا زادِ سفر لے کے چلا ہوں اُن کو بھی دکھا دوں دلِ مضطر کی میں حالت بے تاب ہتھیلی پہ جگر لے کے چلا ہوں اب خواہشِ نفسانی مجھے روکے گی کیسے میں سیرتِ آقا سے اثر لے کے چلا ہوں پھر لوٹ کے آنے کا ارادہ نہیں میرا ساتھ اپنے دل […]

سرعرش انھیں جلوہ گر دیکھتے ہیں

ملک احترام بشر دیکھتے ہیں مجھے دیکھیں قدسی اگر دیکھتے ہیں میرا حال خیرالبشر دیکھتے ہیں حرم، عرش، جنت جدھر دیکھتے ہیں مقامات خیر البشر دیکھتے ہیں تجھے بدر کا چاند کہتے ہیں قدسی تری چاندی عرش پہ دیکھتے ہیں نجومِ فلک پر نظر رکھنے والے روایات شق القمر دیکھتے ہیں مدینہ سے سینہ میں […]

دارالاماں یہی ہے حریمِ خدا کے بعد

ہم کس کے در پہ جائیں درِ مصطفیٰ کے بعد پُر نور کتنا خاکِ مدینہ سے دل ہوا آئینہ کیسا صاف ہوا ہے جلِا کے بعد روزِ جزا سے قبل شفاعت کریں گے آپ جنّت بھی آپ بخشیں گے روزِ جزا کے بعد طیبہ ہے اس سخی دو عالم کا گھر جہاں خالی کوئی فقیر […]

حشر تک نعتیہ تحریر مقالے ہوں گے

مگر ہر دور کے انداز نرالے ہوں گے میری سرکار کے جو چاہنے والے ہوں گے حشر کے روز وہ رضواں کے حوالے ہوں گے راہِ طیبہ میں سُناتا ہوں انہیں نعتِ حبیب مجھ سے مسرور نہ کیوں قافلے والے ہوں گے تہنّیت زائر طیبہ تجھے، تو نے دل کے خوب جی کھول کے ارمان […]

حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد

نگاہ کا مدعا محمد، خیال کا آسرا محمد انہی سے دنیا میں روشنی ہے انہی سے عرفان وآگہی ہے ہیں آفتابِ جہاں محمد، جمالِ نورِ خدا محمد یہی ہیں زخمِ جگر کا مرہم انہی کا ہے اسم، اسمِ اعظم قرار بے تابیوں کو آیا زباں سے جب کہہ دیا محمد خدا سے جو کچھ بھی […]

جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے

مہرِ روشن چُھپ گیا تیری نظر کے سامنے اُس گلَ عارض کی دل آرا پھبن کا ذکر چھیڑ ہم نفس مجھ بلبلِ خستہ جگر کے سامنے اُس حریمِ ناز تک لے جا یہ پیغام اے صبا تیرے دیوانے کھڑے ہیں رہگزر کے سامنے کارِ پاکاں را قیاس از خود مگیر سے بو الفضول سنگریزوں کی […]

جو تیرے کوچہ میں بستر لگائے بیٹھے ہیں

وہ ہاتھ دونوں جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیں فقیر ہیں تیرے، محتاج یک نگاہِ کرم لٹے لٹائے تیرے در پر آئے بیٹھے ہیں زمین کوئے محمد کی دل کشی دیکھو کہ بادشاہ بھی کمبل بچھائے بیٹھے ہیں اٹھائے حشر بھی آکر تو اٹھ نہیں سکتے جو آستاں پہ تمہارے بٹھائے بیٹھے ہیں سجا ہے داغ […]

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا

میری قسمت جگانا تیرا کام ہے میری آنکھوں کو ہے دید کی آرزو رخ سے پردہ اٹھانا تیرا کام تھا تیری چوکھٹ کہاں اور کہاں یہ جبیں تیرے فیضِ کرم کی تو حد ہی نہیں جس کو دنیا میں نہ کوئی اپنا کہے اس کو اپنا بنانا تیرا کام ہے باڑا بٹتا ہے سلطان کونین […]

تیری وحدت کی گواہی جو دیا کرتے ہیں

بن کے دستار سروں پر وہ سجا کرتے ہیں تو نگہبان چمن ہے یہ چمن ہے تیرا تیری مرضی سے سبھی پھول کھلا کرتے ہیں تیرے دربار گہر بار کے طالب ہیں ہم ہم کہاں غیر کی چوکھٹ پہ جھکا کرتے ہیں تیرے محبوب کا احسان و کرم ہے ہم پر جن کی بتلائی ہوئی […]