ہماری جاں مدینہ ہے، ہمارا دل مدینہ ہے

ہماری زندگانی میں فقط شامل مدینہ ہے مری دنیا، مری عقبیٰ، مری منزل مدینہ ہے سجا رکھی ہے جو دل نے وہی محفل مدینہ ہے زمانے بھر کے شہروں پر فضلیت عام ہے جس کی وہی اکمل، وہی اجمل، وہی کامل مدینہ ہے سکونِ قلب ملتا ہے مدینے کے تصوّر سے حقیقت ہے خیال و […]

کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں

یہ صبحِ بہاراں کہتی ہے وہ آقا آنے والے ہیں آؤ مل کر نعت پڑھیں ہم ، آؤ ان کا ذکر کریں جن کے چرچے جان و دل میں پھول کِھلانے والے ہیں چندا ، سورج ، جگنو ، تارے ، اپنے اُجالے ان پر واریں اپنے روشن چہرے سے جو ہر بزم سجانے والے […]

کوئی کیا بتائے کہ چیز کیا یہ گُداز عشقِ رسول ہے

جو رہے دلوں میں تو آگ ہے جو نظر میں آئے تو پھول ہے کسی اور سمت ہو دیکھنا تو یہ سعیِ دید فضول ہے کہ اُسی نگاہ میں ہے خدا جو نگاہِ سوئے رسول ہے ہیں بصارتیں مریِ مستند کہ نظر میں شہرِ رسول ہے یہ جو سُرمہ ہے میری آنکھ میں اسی رہ […]

کملی والے میں قرباں تری شان پر

ٹھوکریں کھا کے گرنا مرا کام تھا ساقیا! جان قرباں ترے جام پر چھوڑ دی میں نے کشتی ترے نام پر ظلم جانوں پہ جب بے بہا کرلیے تیرے مجرم ترے در پہ حاضر ہوئے پوری سرکار سب کی تمنّا کرو دور طیبہ سے روتے تڑپے ہیں جو فیض جاری ترا تا قیامت رہے تیری […]

نہ تھے ارض وسما پہلے نہ تھے شمس وقمر پہلے

نہ تھے ارض و سما پہلے نہ تھے شمس و قمر پہلے خدا کے بعد تھا نورِ شہِ جن و بشر پہلے نبی جتنے بھی آئے حضرت آدم سے عیسیٰ تک سبھی نے دی شہِ بطحا کے آنے کی خبر پہلے کف بوجہل میں کس نے گواہی دی رسالت کی کبھی گویا ہوئے تھے اس […]

نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے

چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں،کون جلوہ نما آج کی رات ہے فرش پر دھوم ہے عرش پر دھوم ہے، بد نصیبی ہے اس کی جو محروم ہے پھر ملے گی یہ شب کس کو معلوم ہے،عام لطف خدا آج کی رات ہے ابر رحمت ہیں محفل پہ چھائے ہوئے،آسماں سے ملائک ہیں آئے […]

نعت کی بزمِ ادب میں آج صہبا میں بھی ہوں

دست بستہ لفظ بھی ہیں، دست بستہ میں بھی ہوں میں سمو لایا ہوں شعروں میں بنامِ مصطفٰی روشنی کا وہ سمندر جس کا پیاسا میں بھی ہوں ایک بے سایہ کا سایہ ساتھ رہتا ہے سدا ورنہ اپنی ذات کے صحرا میں تنہا میں بھی ہوں وہ نہ ہوتے تو کہاں ہوتا مِرا اپنا […]

متاع ِ نعت میں حرف سپاس رکھتے ہیں

متاعِ نعت میں حرف سپاس رکھتے ہیں اسی پہ طرزِ عمل کی اساس رکھتے ہیں مشامِ جاں ہے معطر اسی گل تر سے شبوں میں اسم پیمبر کی باس رکھتے ہیں وہ جامِ کوثر و تسنیم بھی چکھیں گے ضرور جو ان کے جامِ زیارت کی پیاس رکھتے ہیں ہمیشہ چومیں گے روضے کی جالیوں […]

قدرت نے عطا کی مجھے توفیق ثنا کی

مرغوبِ قلم نعت ہے محبوبِ خدا کی دل میں ہے تمنّا ترے نقشِ کفِ پا کی خوش طالعی مل جائے مجھے غارِ حرا کی والشّمس ترے عارضِ تاباں کا قصیدہ واللیل، رباعی ہے تری زُلف رسا کی ایوانِ تمدّن میں ترے رُخ کا اُجالا تہذیب، تجلی ترے نقشِ کفِ پا کی خود حق نے ترے […]

عجیب قریہ ہے نجس کی خوشبو سے سارا عالم مہک رہا ہے

عجیب قریہ ہے جس کی خوشبو سے سارا عالم مہک رہا ہے عجیب بستی ہے جس کی باتوں سے اک زمانہ چہک رہا ہے عجیب سی روشنی مکانوں سے آرہی ہے عجیب تابندگی بہرسمت چھارہی ہے عجب زمیں ہے کہ آسماں کی بلند یاں ہیچ لگ رہی ہیں اُحَد کے میداں کی سمت جاتی ہوئی […]