جہاں روشن است از جمالِ محمد

دلم تازہ گشت از وصالِ محمد خوشا مجلس و مسجد و خانقاہے کہ دروے بود قیل و قالِ محمد وصفِ رخش والضحے گشت نازل چو والیل شد زلف خالِ محمد بروے زمین گشت سردارِ عالم ہر آنکس کہ شد پائمالِ محمد بجنت ہمہ حوریاں کرد نعرہ بوقتِ شنیدن وصالِ محمد شود پاک معصوم کلی گنہ […]

نسیما ! جانب بطحا گزر کن

نسیما ! جانب بطحا گزر کن ز احوالم محمد را خبر کن اے صبا بطحا کی طرف چل ۔ میرے احوال حضور کو سنا ببریں جانِ مشتاقم بہ آں جا فدائے روضہ خیر البشر کُن میری بے تاب جان کو اُس جگہ لے جا ۔ تا کہ یہ حضور کے روضہ اقدس پر نثار ہو […]

مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو

سَرورِ ہر دو سَرا ہو اپنے اچھوں کا تَصَدُّق ہم بدوں کو بھی نباہو کس کے پھر ہوکر رہیں ہم گر تمھیں ہم کو نہ چاہو بَد ہنسیں تم اُن کی خاطر رات بھر رو و کراہو بد کریں ہر دم بُرائی تم کہو اُن کا بھلا ہو ہم وہی ناشستہ رُو ہیں تم وہی […]

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام مِہرِ چرخِ نبوت پہ روشن دُرود گلِ باغِ رسالت پہ لاکھوں سلام شہرِ یارِ ارم تاج دارِ حرم نوبہارِ شفاعت پہ لاکھوں سلام شبِ اسرا کے دولہا پہ دائم دُرود نوشۂ بزمِ جنّت پہ لاکھوں سلام عرش کی زیب و زینت پہ عرشی دُرود فرش کی طیب و نُزہت […]

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں

اکِ روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں افلاک کے گنبد گنبد پر وحدت کی تجلی کوند گئی آفاق کے سینا زاروں میں گر ارض وسما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو یہ رنگ نہ ہوں گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں وہ […]

شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ

دل رہتا ہے ہر وقت مرا شاد مدینہ ہر وقت نگاہوں میں تصور میں توہی ہے اللہ رے اے حسن خداداد مدینہ اس کے ہی تصدق میں سنور جاتا ہے کردار سب سے بڑی نعمت ہی فقط یاد مدینہ وہ کیف تو لفظوں میں بیاں ہو نہیں سکتا جس کیف میں رکھتی ہے مجھے یاد […]

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے

امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسرٰی خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں اب اس کی مجالس میں نہ […]

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے

مسلماں نہیں ہے، مسلماں نہیں ہے نہ ہوں جس میں نور نبی کی ضیائیں وہ ایماں نہیں ہے وہ ایماں نہیں ہے نہ ہو جس میں دید مدینہ کا اماں وہ دل دل نہیں ہے، وہ جاں جاں نہیں ہے وہی تو ہیں وجہ بنائے دو عالم بھلا ان کا کس شے پہ احساں نہیں […]

اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب

صبح ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب زینت ازل کی ہے تو ہے رونق ابد کی تو دونوں میں جلوہ ریز ہے تیرا ہی رنگ و آب چوما ہے قدسیوں نے تیرے آستانے کو تھامی ہے آسمان نے جھک کر تیری رکاب شایاں ہے تجھ کو سرور کونین کا لقب نازاں ہے تجھ پہ […]

انبیا کو بھی اجل آنی ہے

مگر ایسی کہ فقط آنی ہے پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات مثل سابق وہی جسمانی ہے روح تو سب کی ہے زندہ ان کا جسم پر نور بھی روحانی ہے اوروں کی روح ہو کتنی ہی لطیف اُن کے اجسام کی کب ثانی ہے پاؤں جس خاک پہ رکھ دیں وہ بھی […]