تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے الہی میں قربان تیرے کرم کے مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے وہی اشک […]
معلیٰ
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے الہی میں قربان تیرے کرم کے مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے وہی اشک […]
کعبہ مدعا کی یاد آئی کھل گیا جس سے دائمی گل دل اس صبا اس ہوا کی یاد آئی جو تھا ورد زماں مواجہہ میں اس درد وفا کی یاد آئی ہے جو تزئین مسجد نبوی پھر اسی نقش پا کی یاد آئی جالیوں کی قریں جو مانگی تھی اس مراد و دعا کی یاد […]
اندھیری رات سُنی تھی چراغ لے کے چلے ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے جنان بنے گی محبّانِ چار یار کی قبر جو اپنے سینہ میں یہ چار باغ لے کے چلے گئے ، زیارتِ در کی ، صدر آہ واپس آئے نظر […]
یہ زمیں آپ کی آسماں آپ کا رحمت عالمیں آپ کی ذات ہے سب یہ لطف کرم ہے عیاں آپ کا آپ کا ذکر کرتی ہے ہردم زباں قلب کرتا ہے ہردم بیاں آپ کا عاصیوں کے لیے جز ندامت ہے کیا آسرا ہے شفیع زماں آپ کا اس کو رہتی ہے ہردم مدینے کی […]
ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا تجھے حمد ہے خدایا تمہیں حاکم برا تمہیں قاسم عطایا تمہیں دافع بلایا تمہیں شافع خطایا کوئی تم سا کون آیا وہ کنواری پاک مریم وہ نَفَخْتُ فیہ کادم ہے عجب نشانِ اعظم مگر آمنہ کا جایا وہی سب سے افضل آیا یہی بولے سدرہ والے چمن جہاں […]
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے لے جاوں […]
دل تھا ساجد نجدیا پھر تجھ کو کیا بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے یارسول اللہ کہا پھر تجھ کو کیا یا غرض سے چھُٹ کے محض ذکر کو نام پاک اُن کا جپا پھر تجھ کو کیا بے خودی میں سجدۂ دریا طواف جو کیا اچھا کیا پھر تجھ کو کیا ان کو تملیک ملیک […]
والليلُ دجا من وفرتہ سحر طاری ہوئی ہے آپ کے ماتھے کی طلعت سے یہ رونق رات نے پائی ہے زلفوں کی عنایت سے فاقَ الرُّسلا فضلاً وعلا اَھْدَى السُّبُلاَ لِدَلالَتِہ بزرگی میں وہ سبقت لے گئے سارے رسولوں پر کہ رستے دین کے روشن ہوئے ان کی ہدایت سے كَنْزُ الْكَرَمِ مُوْلِي النِّعَم ھادي […]
نکلے تیری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو جلوتیاں مدرسہ کور نگاہ مردہ ذوق خلوتیاں میکدہ کم طلب و نہی کدو میں میری غزل میں ہے آتش رفتہ سراغ میری تمام سرگزشت کھوئے ہووں کی جستجو باد صبا کی موج سے نشو و نائے خار و خس میرے نفس کی موج سے نشو و […]
تاجِ سر بنتے ہیں سیّاروں کے ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم خلعتِ زر بنیں پشتاروں کے میرے آقا کا وہ در ہے جس پر ماتھے گھِس جاتے ہیں سرداروں کے میرے عیسیٰ تِرے صدقے جاؤں طور بے طور ہیں بیماروں کے مجرمو! چشمِ تبسم رکھو پھول بن جاتے ہیں انگاروں کے تیرے ابرو […]