دستِ قاتل کہ نہیں اذنِ رہائی دیتا

میں نے مرنا تھا بھلے لاکھ صفائی دیتا میں کہ احساس تھا محسوس کیا جانا تھا میں کوئی روپ نہیں تھا کہ دکھائی دیتا دامنِ چاک تو گل رنگ ہوا جاتا ہے اور خیرات میں کیا دستِ حنائی دیتا اب کہیں ہو تو صدا دے کے پکارو ورنہ اس اندھیرے میں نہیں کچھ بھی سجھائی […]

لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کو سنبھالا جائے

وہ جو سینے میں دھڑکتا ہے، نکالا جائے ہجر کے پھول تسلسل سے کھلے جاتے ہیں عشق کی شاخ کو اب کاٹ نہ ڈالا جائے؟ فصلِ گل ہے تو کوئی جشن منانا لازم دل کے شیشے کو سرِ بزم اچھالا جائے کوئی منطق ، کوئی تاویل ، بہانہ کوئی جس سے دنیا کے سوالات کوٹالا […]

شکوہ تو نہیں خیر سماعت سے تمہاری

لیکن مری آواز کو سن پاؤ تو بہتر دل خاک ہوا خاک میں اب کون سی حس ہو ٹھہرو تو قدم بوس رہے ، جاؤ تو بہتر اب مجھ میں انا نام کی کچھ چیز نہیں ہے تم آؤ تو بہتر ہے ، نہیں آؤ تو بہتر پہلے ہی دلِ سوختہ سر جان بلب ہے […]

سونپ دی جائے گی اب خاک کو ہر اک خواہش

پھر گلے لگ کے دفینے سے رہا جائے گا چاک ہوگا تو سلیقے سے گریبان کہ اب دشتِ وحشت میں قرینے سے رہا جائے گا میں تہہِ آب سے اس طور پکاروں جیسے اب نہیں تیرے سفینے سے رہا جائے گا شہرِ جاناں مجھے رستوں کے حوالے کر دے اور رہتا ہوں تو جینے سے […]

ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​

ہے سلطانوں کا ایک سلطان ہے حنان اللہ ، ہے منان مہیمن ، حفیظ اور نگہبان عفُو اور رحیم اور رحمٰن زباں سے بھی کہنا ہے آسان دلوں میں بسانا ہے ایمان سرور و مسرّت کا سامان دلِ صاحبِ دل کا ارمان نرالا ، اکیلا جہاں بان ہے خلاقِ حیوان و بے جان عطا کر […]

ہوش و خرد سے کام لیا ہے

اُن کا دامن تھام لیا ہے لوگو دُرودِ پاک پڑھو تم میں نے اُن کا نام لیا ہے طوف حرم اور عشق کی چادر کیا اچھا احرام لیا ہے اُن کی راہ پہ چلتے رہنا کام یہ خوش انجام لیا ہے چپ رہ کر سب کچھ کہہ ڈالا اشکوں سے کیا کام لیا ہے میں […]

کھویا کھویا ہے دل، ہونٹ چپ، آنکھ نم، ہیں مواجہ پہ ہم

روبرو اُن کے لایا ہے اُن کا کرم، ہیں مواجہ پہ ہم لمحے لمحے پہ آیات کا نور ہے، نعت کا نور ہے نور افشاں، دُرودی فضا دم بہ دم، ہیں مواجہ پہ ہم ایک کونے میں ہیں، سر جھکائے ہوئے، منھ چھپائے ہوئے گردنیں ہیں کہ بارِ ندامت سے خم، ہیں مواجہ پہ ہم […]

کون پانی کو اڑاتا ہے ہوا کے دوش پر​

کس نے بخشی پیڑ کو آتش پذیری سوچئے​ کس کے لطفِ خاص سے نغمہ فشاں ہے سانس کی​ دھیمی دھیمی، دھیری دھیری یہ نفیری سوچئے​ کس کی شانِ کُن فکاں سے پھوٹتا ہے خاک سے​ یہ گیاہِ سبز کا فرشِ حریری سوچئے​ کون دیتا ہے جوانی میں لہو کو حِدّتیں​ کون کردیتا ہے عاجز وقتِ […]

کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر، اللہ اکبر

دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر، اللہ اکبر حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر، اللہ اکبر حمد خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رَس گھولتی ہیں اذانیں بس اِک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر، اللہ […]

وہ کیا ایک ہے ذاتِ پروردگار​

فقط بے شماری ہے جس کا شمار​ وہ کیا ایک خالق ہے نامِ خدا​ نہیں جس کا ثانی کوئی دوسرا​ وہ کیا ایک رازق ہے روزی رساں​ کہ ہے جس کا محتاج سارا جہاں​ وہ کیا ایک قادر ہے ربِ قدیر​ خبر گیرِ حالِ صغیر و کبیر​ وہ کیا ذات ہے حضرتِ پاک ذات​ کہ […]