دستِ قاتل کہ نہیں اذنِ رہائی دیتا
میں نے مرنا تھا بھلے لاکھ صفائی دیتا میں کہ احساس تھا محسوس کیا جانا تھا میں کوئی روپ نہیں تھا کہ دکھائی دیتا دامنِ چاک تو گل رنگ ہوا جاتا ہے اور خیرات میں کیا دستِ حنائی دیتا اب کہیں ہو تو صدا دے کے پکارو ورنہ اس اندھیرے میں نہیں کچھ بھی سجھائی […]