اُجالے کیوں نہ ہوں دیوار و در میں

میں ذکرِ مصطفی کرتا ہوں گھر میں وہ جیسے ہیں کوئی ویسا نہیں ہے یہی لکھا ہے تاریخِ بشر میں یہاں بے مانگے ملتا ہے گدا کو نہیں کوئی بھی در ایسا نظر میں چلا ہوں سوئے دربارِ رسالت ہے میرے ساتھ اِک خوش بو سفر میں انھی کے نور سے تاباں ہے سورج انھی […]

ہے پاک رتبہ اس بے نیاز کا

ہے پاک رُتبہ اُس بے نیاز کا کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام امتیاز کا شہہ رگ سے کیوں وصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب کیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا لب بند اور دل میں وہ جلوے بھرے ہوئے اللہ رے جِگر تیرے آگاہ زار کا غش آگیا کلیم سے مشتاقِ […]