زباں سے نکلا صلِّ علیٰ مواجہ پر

چراغ بن گئے حرف و نوا مواجہ پر درود پڑھتی ہوئی ساعتوں کے جھرمٹ میں سلام پڑھتا ہوا میں بھی تھا مواجہ پر حضور حرفِ شفاعت کی بھیک دے دیجیے ہر ایک اشک نے دی یہ صدا مواجہ پر خدا کرے مجھے عمرِ دوام مل جائے خدا کرے ہو مرا خاتمہ مواجہ پر صبیحؔ مجھ […]

دل نے روشن کیے ثناء کے چراغ

تیرگی دور کی جلا کے چراغ جل اُٹھے قصر مصطفی کے چراغ دربدر ہو گئے ہوا کے چراغ اب کوئی راہ بر نہیں درکار مل گئے اُن کے نقش پا کے چراغ ان کے اصحاب و اہل بیت کی خیر بجھ نہ پائے کبھی وفا کے چراغ خانقاہوں میں اب بھی روشن ہیں اہل حق […]

خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا

زباں خموش تھی دل محوِ التجاؤں میں تھا درِ کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداؤں میں تھا غلافِ خانۂ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں خدا سے عرض و گزارش کی انتہاؤں میں تھا فضائے مغفرت آثار میں تھا دل سرشار مرا وجود خدا کے کرم […]

حسنِ معنویت میں حسنِ جاوداں حسّان

بعد ذاتِ احدیت پہلے نعت خواں حسّان باغِ رب اکبر نے ایسا ُگل ِکھلایا ہے تا ابد سجائیں گے تازہ گلستاں حسّان لفط لفظ میں گویا شرح ُحسنِ یزداں ہے منصبِ نبوت کے ایسے رازداں حسّان جبریل بھی آکر دادِ فکر دیتے ہیں شعریت کی دنیا میں ہیں وہ نکتہ داں حسّان یادِ پاک آتے […]

حاضر ہیں ترے دربار میں ہم، اللہ کرم، اللہ کرم

دیتی ہے صدا یہ چشمِ نم، اللہ کرم، اللہ کرم ہیبت سے ہر اِک گردن خم ہے، ہر آنکھ ندامت سے نم ہے ہر چہرے پہ ہے اشکوں سے رقم، اللہ کرم، اللہ کرم جن لوگوں پہ ہے انعام ترا، ان لوگوں میں لکھ دے نام مرا محشر میں مرا رہ جائے بھرم، اللہ کرم، […]

جلوہ ہے یا نُور ہے ،یا نُور کا پردہ تیرا

پر جلے جس جائے پر ، جِبریل بھی جُویا تیرا​ فکر میں ڈُوبا میں جتنا تُو اُبھرتا ہی گیا​ خاک پائے وصف تیری ، خاک کا پُتلا تیرا​ ​  اُجلا اُجلا نُور مانو ہے تلاشِ روشنی​ جلوہ ہے یا طُور ہے یا نُور کا دریا تیرا​ ​خِیرہ خِیرہ ہو گئی ہیں نَین کی بینائیاں​ کونسی […]

جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے

نصیب بدلے ہیں آپ نے ظلمت جہاں کے خدا سے بندوں کو آپ کتنا قریب لائے مٹا دیے فاصلے تھے جو کچھ بھی درمیاں کے ضعیف لوگوں کے حق میں قدآوری کا پیغام وہ بے نوا کی نوا مددگار ناتواں کے نصاب تہذیب و آگہی کے چراغ دے کر یقیں اُجالوں کو کر دیا ساتھ […]

تعریف رب کی جس نے ، سارا جہاں بنایا​

ہر شے کو حسن دے کر ، پیارا سماں بنایا​ مخلوق ساری اپنی ، قدرت سے ہے بنائی​ کیسی زمیں بچھائی ، کیا آسماں بنایا​ رسوائی ہو کہ عزت ، غم یا خوشی کی حالت​ اللہ نے ہی سارا ، سود و زیاں بنایا​ شب روز کو کیا ہے ، اک دوسرے میں داخل​ شمسی […]

اپنے دربار میں آنے کی اجازت دی ہے

اک گنہ گار کو آقا نے یہ عزت دی ہے آپ کا ذکر بھی کبھی کم نہیں ہوگا آقا آپ کے ذکر کو اللہ نے رفعت دی ہے آپ کا نام تو ہر غم کی دوا ہے آقا آپ کے نام نے ہر رنج میں راحت دی ہے تلخ لہجوں کو جو شائستہ بنا دیتی […]