غبارِ غم بسلسلۂ مرگِ زوجۂ اول (1958ء)

کٹ چکی ہے رات ہے پچھلا پہر نیند کوسوں دور آنکھوں سے مگر روئے عالم پر ہے اک افسردگی جس طرف دیکھو ادھر پژمردگی محفلِ انجم بھی ہے ماتم گسار آنکھ ہر تارے کی کیوں ہے اشک بار چاند کے چہرہ کا بھی ہے رنگ زرد ہے لبِ موجِ ہوا پر آہِ سرد گریۂ شبنم […]

شامِ انتخاب 1970ء

انتخابِ عام کا ظاہر نتیجہ ہو گیا کلمہ گوؤں کے دلوں کا راز افشا ہو گیا حسنِ ظن ان کی طرف سے تھا جو رسوا ہو گیا محوِ حیرت ہوں کہ کیا ہونا تھا اور کیا ہو گیا ہم کہ پر امید تھے آئے گی صبحِ زر نگار خیمہ زن ہو گی چمن میں ہر […]

مکالمہ مابین مسلمان اور سوشلسٹ

مسلمان اپنا یہ چمن دیں کی نواؤں کے لئے ہے اسلام کی جاں بخش فضاؤں کے لئے ہے ہم فلسفۂ دینِ محمد کے فدائی دستورِ شریعت کے ہیں اس ملک میں داعی ہم امن و مساوات و محبت کے پیامی آپس میں رواداری و نصرت کے ہیں حامی دنیا ہمیں درکار ہے بس دین کی […]

ہے بے مثال شہا ذاتِ عبقری تیری

ہے کس کا منہ جو کرے کوئی ہمسری تیری محیطِ ہر دوجہاں جلوہ گستری تیری خوشا نصیب! دو عالم کی سروری تیری کسے نصیب ہو شانِ تونگری تیری شہنشہی میں بھی چمکی قلندری تیری سیاہ گیسو ہیں آنکھیں ہیں مدھ بھری تیری دلوں کو سب کے لبھائے سمن بری تیری نگاہِ شوق جو پڑ جائے […]

توفیق ہو اے کاش بہم اور زیادہ

توصیفِ محمد ہو رقم اور زیادہ یا رب ہو ترا مجھ پہ کرم اور زیادہ دے عشقِ شہنشاہِ امم اور زیادہ کرتے ہیں ترا ذکر جو ہم اور زیادہ ہو جاتی ہے کم تلخی غم اور زیادہ یاد آئے مجھے شاہِ حرم اور زیادہ بڑھ اے خلشِ تیرِ ستم اور زیادہ ممدوحِ خداوندِ جہاں ہے […]

جب سے کچھ ہوش سنبھالا ہے جبھی سے ہم کو

ہے شغف شکرِ خدا نعتِ نبی سے ہم کو ہیں نبی جتنے عقیدت ہے سبھی سے ہم کو حبّ لیکن ہے اسی مطّلبی سے ہم کو راہ پر لائے ہیں بے راہ روی سے ہم کو کیسے الفت نہ ہو شاہِ مدنی سے ہم کو آگہی بخشی ہے ذاتِ ازلی سے ہم کو اور آگاہ […]

نعتِ شہِ دیں کا مجھے یارا تو نہیں ہے

چپ بیٹھ رہوں یہ بھی گوارا تو نہیں ہے صدیوں سے ہزاروں نے لکھا وصفِ نبی پر یکجا بھی کریں سب کو تو سارا تو نہیں ہے چمکا رخِ ہستی ہے زِ انوارِ محمد مہتابِ جہاں تاب ہے تارا تو نہیں ہے انسان کے دکھ درد کبھی مٹ نہیں سکتے بِن اس کی اطاعت کئے […]

نبی کی نعت لکھیں تھا نہ حوصلہ ہم کو

پہ فرطِ شوق نے مجبور کر دیا ہم کو صفِ رسل میں دکھائی دیا بڑا ہم کو بذاتِ مصطفوی ناز ہے بجا ہم کو نصیب دامنِ رحمت ہو آپ کا ہم کو اب اور چاہئے سچ پوچھئے تو کیا ہم کو نبی ملا تو خدا کا پتہ چلا ہم کو جب اس کی راہ چلے […]

یہ دل پر فضلِ ربی کا اثر ہے

کہ محوِ مدحتِ خیر البشر ہے کہے صلِّ علیٰ ہر ایک سن کر محمد نام پیارا کس قدر ہے وہ فخرِ انبیاء محبوبِ رب وہ سرِ عرشِ بریں بھی جلوہ گر ہے رفیع الذکر ہے وہ کملی والا بہر سو تذکرہ آٹھوں پہر ہے نہیں کچھ جز مصلیٰ اور بستر اثاثُ البیت کتنا مختصر ہے […]

ضبطِ تولید

ہے ملک میں جو تیزی رفتارِ ولادت آزردہ و آشفتہ ہیں اربابِ حکومت کہتے ہیں کہ محدود ہے سامانِ معیشت اب ملک میں انساں کی نہیں اور ضرورت آئے نہ کہیں فاقوں سے مر جانے کی نوبت ہے قوم پہ لازم عملِ ضبطِ ولادت میداں میں نکل آئے ہیں کچھ عالمِ دیں بھی ثابت اسے […]