یہ تیری نعت کا منظر کہاں کہاں چمکا

ترا کرم ، مرے حرفوں کے درمیاں چمکا یہ تیرا حرفِ ترنم کہ رتجگے مہکے یہ تیرا اذنِ تکلّم کہ بے زباں چمکا سنبھال رکھا تھا دل کو بہ طرزِ طوقِ جتن اشارہ ملتے ہی یہ تو کشاں کشاں چمکا وہ آفتابِ نبوت ، وہ وجۂ کون و مکاں حرا کی کوکھ سے اُبھرا تو […]

مَیں مدینے میں ہُوں اور میرا گماں مجھ میں ہے

ایک لمحے کو لگا سارا جہاں مجھ میں ہے پورا منظر ہے کسی اور تناظر میں رواں وہ جو تھا پہلے نہاں اب وہ عیاں مجھ میں ہے سامنے ُگنبدِ خضریٰ کے کھڑے سوچتا ہُوں آسماں زاد کوئی خواب رواں مجھ میں ہے حرف کے چہرۂ ادراک پہ آنکھیں بن کر کوئی آواز پسِ صوتِ […]

کریم اپنی ہی خاکِ عطا پہ رہنے دے

زمیں سے آیا ہوا ہوں سما پہ رہنے دے بکھر نہ جاؤں کہیں برگِ بے شجر کی طرح کریم، شاخِ کرم کی وفا پہ رہنے دے بہت ہی تیز ہواؤں نے گھیر رکھا ہے کریم ، ہاتھ مرے دل دِیا پہ رہنے دے خطائیں لایا ہوں نعتوں کی طشت میں رکھ کر یہ ایک پردہ […]

گل و گلاب، عنادل کی نغمگی تجھ سے

بہارِ تازہ کے پہلو میں زندگی تجھ سے جہانِ حسن کو ملتی ہے تیرے اسم سے خیر وجودِ عشق نے پائی ہے تازگی تجھ سے عروسِ شب کے سرہانے ترے کرم کا غلاف نگارِ صبح کے دامن میں روشنی تجھ سے مجال شاہوں کی، اُس سے کریں شہی کی بات ترے فقیر کو حاصل ہے […]

تمازتوں میں کرم کی ٹھنڈی پھوار بطحا

اُجاڑ بنجر زمیں پہ فصلِ بہار بطحا ہر ایک منظر ہی اُس کے منظرکا عکسِ تاباں ہر ایک منظر کو دے رہا ہے نکھار بطحا بہت ہی دلکش، نجوم جیسے ہیں سنگ تیرے بہت ہی نازک مزاج ہیں تیرے خار بطحا عجب نہیں ہے کہ تیری جانب کھچے چلے ہیں کہ بے قراروں کی ُتو […]

چشمۂ جود و سخاوت ہیں ترے گیسوئے نور

قاسمِ نکہت و رنگت ہیں ترے گیسوئے نور شانۂ نور پہ وہ چہرۂ انور کے قریں خَم بہ خَم گوشۂ حیرت ہیں ترے گیسوئے نور رنگ میں جیسے کوئی رنگوں کا بازار ُکھلے حسن میں حدِّ نہایت ہیں ترے گیسوئے نور تہہ بہ تہہ، معنیٰ بہ معنیٰ ہے کرشمہ سازی مصدرِ عِلمِ بلاغت ہیں ترے […]

حصارِ خیر میں رکھی رہیں صدائیں سب

عطائیں ساتھ اُڑا لے گئیں دُعائیں سب بس ایک حرفِ شفاعت کی دیر تھی واللہ یہیں دھرے کی دھری رہ گئیں خطائیں سب مَیں چوم لیتا ہوں مُشکل کُشا کا اِسمِ علی وہ ٹال دیتے ہیں جتنی بھی ہوں بلائیں سب وفورِ شوق میں رقصاں ہے تیرے اِسم کا نور وجودِ حُسن میں تاباں تری […]

اس کی تجلیات کا مظہر بنا ہوں میں

گو عینِ حق نہیں ہوں مگر حق نما ہوں میں پھرتا ہوں در بدر کہ اسے ڈھونڈتا ہوں میں دکھلا دے کوئی راہ کہ بھٹکا ہوا ہوں میں جس سمت جاؤں اس کے ہی جلوے ہیں جابجا دیکھوں جدھر بھی صرف اسے دیکھتا ہوں میں گونجی تھی جس کی عالمِ لاہُوت میں صدا وہ بازگشتِ […]

ساتھ کب تک کوئی چلا مت پوچھ

کس نے کی کس قدر وفا مت پوچھ مختصر یہ کہ ہو گئے آزاد کون کس سے ہوا رِہا مت پوچھ تھی قیامت مگر گزر ہی گئی تذکرہ اس کا بارہا مت پوچھ پوچھ مجھ سے جو میرے دل میں ہے لوگ کہتے ہیں کس سے کیا، مت پوچھ تب مجھے بھی نہیں تھی اپنی […]

ہاتھ جوڑے ہیں التجا کے لیے

مان بھی جاؤ اب خدا کے لیے اشک کرتے ہیں حال دل کا بیان لفظ ملتے نہیں دعا کے لیے حرفِ تسکیں کی بھیک ہے درکار ایک مہجور و بے نوا کے لیے مہر و الفت سے بڑھ کے کیا ہو گا آج انسان کی بقا کے لیے لاکھ مجھ پر زمانہ ڈھائے ستم ہنس […]