کسی کی ذات سے کچھ واسطہ نہ ہوتے ہوئے

"​میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے”​ کسی کے ساتھ گزارے تھے جو خوشی کے پل بہت رلاتے ہیں اب رابطہ نہ ہوتے ہوئے ہزار مصلحتوں کا حجاب حائل تھا ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہ ہوتے ہوئے عجیب شے ہے محبت کہ دل کے زخموں نے ترے ستم کو بھی مرہم کہا، نہ […]

ملیں گے رہنما ایسا نہیں ہے

کہ الفت راستہ ایسا نہیں ہے جو خود جل کر کرے دنیا کو روشن یہاں کوئی دیا ایسا نہیں ہے کبھی ان پھول سے ہونٹوں پہ ٹھہرے ہمارا تذکرہ ایسا نہیں ہے چلو مانا اسے تھی فکر میری مگر وہ پیار تھا ایسا نہیں ہے کہا میں نے مجھے تم چھوڑ دو گے مگر اس […]

شوق اب وحشت میں داخل ہو رہا ہے

خستگی میں لطف حاصل ہو رہا ہے زخم کھائے دل کی طاقت ہی عجب ہے سینہِ خنجر بھی گھائل ہو رہا ہے جس کی غم خواری متاعِ جاں تھی میری وہ ستم کاروں میں شامل ہو رہا ہے اک قیامت ٹوٹنے والی ہے سر پر وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے تیرے […]

جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں

وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں ایسا مرض نہیں کوئی جس کی شفا نہیں درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں کہنے کو آدمی سے بڑے آدمی بہت سوچو تو آدمی سے کوئی بھی بڑا نہیں کس نے کہا کہ عشق ہے ہر درد کی دوا آبِ بقا یہ ہو تو […]

کہتا ہے اپنے دل سے نکالوں میں اب تجھے

دانستہ اپنے دل میں بسایا ہی کب تجھے؟ میں خود کو خود میں ڈھونڈ نہیں پایا آج تک حیرت ہے! مجھ میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں سب تجھے واقف نہیں جو حسن کی شوخی سے، کَم نصیب کہتے ہیں بدلحاظ ، اجڈ ، بے ادب تجھے کل پایا جس نے تجھ سے تمدن زکوٰة میں سکھلا […]

خوشی کی آرزو میں زندگی بھر غم کمائے ہیں

تِرا دل جیتنے نکلے تھے خود کو ہار آئے ہیں چرانا چاہتا تھا زندگی سے جس کی سارے غم اسی نے زندگی بھر خون کے آنسو رلائے ہیں کبھی ہم سے محبت کا تجھے دعویٰ رہا بھی تھا کہ ہم نے خود سے ہی یہ سارے مفروضے بنائے ہیں؟ اسی کا ذکر ہے پنہاں ، […]

شوق وہ ہے کہ انتہا ہی نہیں

درد ایسا ہے ، کچھ دوا ہی نہیں دم نکل جائے اتنا دم ہی کہاں اس پہ جینے کا آسرا ہی نہیں یک بہ یک وار دوستوں کے سہے ایسا باظرف تھا ، مڑا ہی نہیں میں یہ کہتا ہوں مان جا اب تو اس کی ضد ہے کہ وہ خفا ہی نہیں داد خواہی […]

سر بسر آہ و فغاں گریہ و نالہ دل کا

اب کے جاتا ہی نہیں درد یہ پالا دل کا آرزو ہائے صنم شکوہِ صد رنج و الم دیکھ حیران ہوں یہ طور نرالا دل کا دیکھ کر بزمِ رقیباں میں انہیں جاگ اٹھا ایک مدت سے تھا جو درد سنبھالا دل کا ان کی ہر ایک جفا میں نے سرِ بزم کہی خوب میں […]

معذرت

میں کہ اجداد کی ارواح سے شرمندہ ہوں سخت نادم ہوں کہ میں لاج نہیں رکھ پایا اُس لہو کی ، کہ رگ و پے میں رواں ہے میرے اُس شباہت کی ، کہ صورت میں نہاں ہے میری اُس فصاحت کی ، کہ بنیادِ سخن ٹھہری ہے اُس تغزل کی ، کہ جو طرزِ […]