گر گئی یوں مری توقیر کہ اب تو مجھ کو

دیکھتا بھی ہے جو کوئی تو نہیں دیکھتا ہے شرم سے آنکھ ہر اک بار ہی جھک جاتی ہے اور دل ہے کہ ہر اک بار وہیں دیکھتا ہے جس کے پر نوچ لیے تو نے ، وہ طائر اب کے آسماں دیکھنا چاہے تو زمیں دیکھتا ہے شعر ہونے سے کہیں پہلے ہی رو […]

شق ہوئی مصرِ تمنا کی زمیں، دفن ہوئے

ہم تھے قارونِ تخیل کے نگیں، دفن ہوئے تیری متروک شریعت کے فراموش خدا دل کی تاراج زمینوں میں کہیں دفن ہوئے ہم ہمیشہ کے لیے خاک کیے جاتے ہیں ہم خزانوں کی طرح سے تو نہیں دفن ہوئے شعر دربار میں موجود رہے دو زانو تاجدارانِ سخن تخت نشیں دفن ہوئے تُو کہ افلاک […]

مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

مجھے ائے ضبط ، کچھ تو معتبر کر چلو جو بات تھی وہ کھل گئی ہے تو ہے ناکام ، قصہ مختصر کر وہ اس منزل سے آگے جا چکا ہے دلِ ناکام ، آ پھر سے سفر کر بھری رہتی ہیں آنکھیں آج تک بھی اسے دیکھا تھا میں نے آنکھ بھر کر مجھے […]

درد بڑھتا ہی چلا آتا ہے رفتار کے ساتھ

خاک ہونا تھا مجھے خود مرے پندار کے ساتھ ٹھوکریں کھاتا رہا اور دھڑکتا بھی رہا تیرے قدموں میں مرا دل مری دستار کے ساتھ آخرِ کار ، تجھے مد مقابل پا کر جھک گیا سر بھی وہیں پر مرا تلوار کے ساتھ چھین کر لفظ مرے کرتا ہے تصویر مجھے اور پھر مجھ کو […]

یہ ظرف ہے عذاب مرے واسطے کہ میں

کم بخت اپنے حال پہ رو بھی نہیں سکوں ائے راہگزارِ شوق یہ کیسا مقام ہے کھونا پڑا ہے وہ جسے کھو بھی نہیں سکوں میری انا کےچاند سے اجلے وجود پر وہ داغ لگ چکا ہے کہ دھو بھی نہیں سکوں تعبیر جاننے کا نتیجہ ہے یہ کہ اب خوابوں کا خوف وہ ہے […]

ملول میں بھی ہوں ، تو بھی ہے اور شاعری بھی

مری شکست ہے جانے شکست کس کس کی بس ایک تو ہی نہیں مہرباں رہا جب سے تو سن رہا ہوں میں باتیں کرخت کس کس کی مرا حبیب مرے سرو قد کو بانٹتا ہے صلائے عام ہے ، قامت ہے پست کس کس کی قمار خانہِ وحشت میں تجھ کو بھول گیا کہ داؤ […]

آگ سے آگ بجھانے کی تمنا کر کے

لوٹ آیا ہوں فقط درد کو رسوا کر کے پھانس سی ہے کہ نکلتی ہی نہیں سینے سے میں نے دیکھا ہے بہر طور مداوا کر کے خود نمائی کا کوئی رنگ نہیں راس آیا بڑھ گئی اور ندامت ہی تماشہ کر کے میں مسیحائی کی تکلیف نہیں سہہ پایا مر گیا ہوں میں ترے […]

ہو شاعری کہ عشق ہویا درد ہو کوئی

ہو شاعری کہ عشق ہو یا درد ہو کوئی ہر بار میں جنون کی حد سے گزر گیا جس کو جہانِ درد کبھی چھو نہیں سکا وہ کم نصیب تیری محبت سے مر گیا اب میں سکوں کی لاکھ اداکاریاں کروں نشتر مگر جفا کا جگر میں اتر گیا "پھر تم نے ایک روز کہا […]

تُو اور ترا یہ نام یہاں خاک بھی نہیں

ناصر ، ترا مقام یہاں خاک بھی نہیں جس کے حروف چوم کے روتی ہے شاعری وہ قادر الکلام یہاں خاک بھی نہیں اب کیا کریدتی ہے مرے دل کو روز و شب ائے زندگی کی شام یہاں خاک بھی نہیں اس نے بھی تجھ کو بیچ کے کیا پا لیا بھلا یعنی کہ تیرے […]

میں نے جب شعر ترے درد میں ڈھالے آخر

پڑ گئے شعر کو بھی جان کے لالے آخر شدتِ کرب سے کھنچتی ہیں رگیں ٹوٹتی ہیں اس قدر ضبط مجھے مار نہ ڈالے آخر مشورہ ہے کہ مرے درد کا درماں سوچو اس سے پہلے کہ مجھے موت منالے آخر خود کشی عین مناسب ہے مرے چارہ گرو موت آئے تو کہاں تک کوئی […]