دل سے جو غلامِ شہِ ذیشاں نہیں ہو گا

واللہ کبھی خُلد کا مہماں نہیں ہو گا کامل کبھی اُس شخص کا ایماں نہیں ہو گا گستاخِ نبی سے جو گُریزاں نہیں ہو گا گر سامنے اُن کا رُخِ تاباں نہیں ہو گا مرنا بھی ہمارے لئے آساں نہیں ہو گا یادِ شہِ بطحا سے جو دل ہو گا مُزین آباد رہے گا کبھی […]

ہو گئی سرکار کی جلوہ گری

نور سے دنیا منور ہو گی جلوہ فرما جب ہوئے میرے نبی تھا لبوں پر ربِ ہب لِیِ اُمتی تیرگی اور ظلمتیں رخصت ہوئیں ہو گئی جگ میں سراسر روشنی سارے عالم میں اُجالا ہو گیا مِٹ گئی ساری کی ساری تیرگی باغِ عالم میں اُنہیں کے فیض سے ہوگئی ہے تازگی ہی تازگی نورِ […]

جو غلامِ شہِ ابرار ہُوا خوب ہُوا

وقت کا اپنے وہ سردار ہُوا خوب ہُوا ان کے در کا جو نمک خوار ہوا خوب ہوا اس کی ٹھوکر میں یہ سنسار ہوا خوب ہُوا گنبدِ سبز پُر انوار ہُوا خوب ہُوا رشکِ فردوس وہ دربار ہُوا خوب ہُوا مُسکرا دے جو اندھیرے میں سُوئی مِل جائے شاہِ دِیں منبعِ انوار ہُوا خوب […]

بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات

آج آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے (پیدائش: 14 اکتوبر 1775ء – وفات: 7 نومبر 1862ء) نوٹ : تاریخ پیدائش و وفات نگار عظیم کی کتاب مونوگراف سے لی گئی ہیں جو کہ اردو اکادمی دہلی کے زیرِ سایہ 2010 ء میں شائع ہوئی —— بہادر شاہ ظفر کی غیر معمولی […]

رنجِشیں دل سے یوں مِٹاتا ہُوں

پِچھلی باتوں کو میں بُھلاتا ہُوں عاشقانِ نبی کا ہُوں ہمدم خود کو اعداء سے میں بچاتا ہُوں جو بھی ذِکرِ نبی سے جلتے ہیں ان کو میں اور بھی جلاتا ہُوں میرے گھر میں ہیں جو مری بہنیں شفقتیں اُن پہ میں لُٹاتا ہُوں میرے ماں باپ کی دعائیں ہیں عزتیں آج میں جو […]

راحتِ قلب و جگر طیبہ نگر

نورِ بے نوری بصر طیبہ نگر دل نشیں ہے خوب تر طیبہ نگر ہے مرے آقا کا در طیبہ نگر اس لئے تو عاشقوں کو ہے عزیز مصطفیٰ کا ہے یہ گھر طیبہ نگر شہر دلکش جس قدر دنیا میں ہیں ہے سبھی کا تاج ور طیبہ نگر ہیں سلاطینِ زمانہ بھی گدا ہے نرالا […]

دو جہاں میں غیر ممکن ہے مثالِ مصطفیٰ

ٙمن راٰنی قد را لحق ہے جمالِ مصطفیٰ کہتے ہیں ایمان جس کو ہے وہ قالِ مصطفیٰ شک نہیں کچھ جس میں وہ قرآن حالِ مصطفیٰ مرحبا کیا خوب ہے عِز و کمالِ مصطفیٰ ہے جلالِ کبریا بے شک جلالِ مصطفیٰ سر وہی سر ہے جو اُن کے قدموں پہ قربان ہو دل وہی دل […]

میرے سرور میرے دلبر

چشمِ کرم ہو بندہ پرور خیرِ بشر کا رُتبہ پایا نورانی ہیں نور کے پیکر سورج پلٹا چاند ہُوا شق قوت و طاقت اللہ اکبر عِلمِ خفی اور عِلمِ جلی سب تم پہ عیاں ہے تم کو ازبر ذرّے بولیں ہم ہیں سورج گزرے جہاں سے ماہِ منور بادِ صبا کا رتبہ پایا طیبہ میں […]

مصطفیٰ خیر الوریٰ ہیں آپ ہی شاہِ زمن

منتخب مولا نے کی ذات آپ کی شاہِ زمن جہل کی تاریکیاں پھیلی ہوئی تھیں چار سُو آپ لائے ساتھ عِلم و آگہی شاہِ زمن کیا عرب سارے جہاں میں ظُلمتوں کا راج تھا آپ کے آنے سے پھیلی روشنی شاہِ زمن مالکِ کونین ہیں پر اختیاری فقر تھا زندگی میں ہے نمایاں عاجزی شاہِ […]

مقصود زاہدی کا یوم وفات

آج سید مقصود علی زاہدی کا یوم وفات ہے —— (پیدائش: 6 فروری 1918ء – وفات: 6 نومبر 1996ء) —— میرے ہم سفر ، مقصود زاہدی از فارغ بخاری —— کچھ دوست اتنے پیار ے ہوتے ہیں کہ ان کے متعلق کچھ لکھنا چاہو تو سوائے قصیدے کے اور کچھ بھی نہیں لکھا جا سکتا۔ […]