کامل ہو نہ کیوں دانش و عرفان محمد

ہر چیز کا تبیان ہے قرآنِ محمد ثُعبان کلیمی نے تو کھائے تھے فقط سانپ امت کے گنہ کھاتا ہے شَعبانِ محمد بدّو پہ بھی پڑ جائے اگر چشمِ عنایت کہہ اٹھے زمانہ اسے لقمانِ محمد اس شمع کمالات کا پروانہ ہے کردار ہے بلبلِ گفتار ثنا خوانِ محمد معروف ہے وہ مژدہ کہ ” […]

کون اٹھائے سر تمہارا سنگِ در پانے کے بعد

کون جاگے سایۂِ رحمت میں سو جانے کے بعد مطلعِ قِرطاس پر حرفِ ثنا کا چاند ہے نور لینے تارے اتریں ہوش میں آنے کے بعد ذہن پر چھا جائے گی حسنِ معانی کی گھٹا نعت لکھیے ! گیسوئے آداب مہکانے کے بعد شافیِٔ امراض ہے نعتِ مسیحائے عرب کون ہو منّت کشِ عیسیٰ دوا […]

سب سے ازہَد اے مِرے واضعِ سنگِ اسود !

حدیث میں ہے : اَنا وَضَع٘تُ الرُّک٘نَ بِیَدی ترجمہ : میں نے ہی اپنے دست مبارک سے رکن اسود کو نصب کیا (دلائل النبوہ للاصفہانی ) مذکورہ حدیث سے ماخوذ لقبِ مصطفیٰ ” واضعِ سنگِ اسود ” بطور ردیف نظم : سب سے ازہَد اے مِرے واضعِ سنگِ اسود ! تُو ہے اَعبَد اے مِرے […]

اے قاسمِ عطائے احد ! کیجیے مدد !

امت کو آن پہنچے رسد ! کیجیے مدد ! اے منظرِ جمالِ خدا ! دور ہو بلا ! اے مظہرِ جلالِ صَمَد ! کیجیے مدد اے حامی و انیسِ غریباں ! نگاہِ لطف ! اب ظلم ہیں ورائے عدد کیجیے مدد آقائے خضر ! عشق کو آبِ بقا مِلے ! ہو فسق اب سپردِ لحد […]

محبوب کی قربت میں محب کا بھی پتہ ڈھونڈ !

اے ڈھونڈنے والے تو مدینے میں خدا ڈھونڈ ! برسے گا ابھی ابرِ کرم کشتِ سخن پر اس زلف کے مضمون کو اے فکرِ رسا ! ڈھونڈ لے ! ظِلِّ رفعنا میں ترفّع کی ہوائیں سرکار کی سیرت میں ترقی کا پتہ ڈھونڈ غم کی ہے کہیں دھوپ ، بلا کی کہیں گرمی آ ! […]

حسن عسکری عابدی کی برسی

آج معروف شاعر حسن عسکری عابدی کی برسی ہے۔ (پیدائش: 7 جولائی 1929ء – وفات: 6 ستمبر 2005ء) —— حسن عابدی کا پورا نام سید حسن عسکری عابدی تھا اور وہ 7 جولائی 1929ء کو قصبہ ظفر آباد، ضلع جون پور (بھارت) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اعظم گڑھ اور الہ آباد میں تعلیم […]

امکان میں تجلّیِٔ واجب ہے کیا، نہ پوچھ

کثرت میں کیا ہے جلوۂ وحدت نما ، نہ پوچھ وردِ درود کا ہے مِلا فیض کیا ، نہ پوچھ کیسی بلا میں پھنس گئی میری بلا ، نہ پوچھ اوجِ مقامِ سرور ہر دو سرا ، نہ پوچھ اس بات کی نہیں ہے کوئی انتہا ، نہ پوچھ ” احساس میں مہکتے ہیں توصیف […]

کذب کے وہم سے بھی مبرّا ہے سچ

سچ یہی ہے شہا ! تو سراپا ہے سچ اگلے نبیوں کو رب نے سنایا ہے سچ خاتم الانبیا کو دکھایا ہے سچ تیرے پس خوردہ کو بھی نہ جھوٹا کہوں اس قدر تجھ میں آقا ! سمایا ہے سچ تیری شیریں بیانی سے میٹھا ہوا ورنہ مشہور یہ ہے کہ کڑوا ہے سچ تیرے […]

کتنی صدیوں سے چمکتا تھا ہمارا سورج

جبکہ پیدا بھی فلک کا نہ ہوا تھا سورج میراسورج ہے جو اندھوں کو بھی بینا کر دے باعثِ نقصِ نظر ہے تجھے تکنا سورج ! قربتِ خاص کا احوال تو کیا کہیے ، کہ جب ’’ نسبتِ شاہ نے ذرّے کو بنایا سورج ‘‘ مدحتِ مہرِ مدینہ کے نظارے دیکھے بن گیا روزِ قیامت […]

بنے دیوار آئینہ ترے انوار کے باعث

بیاباں ہوں چمن صورت ترے رخسار کے باعث مریضوں کو مسیحا گر بناتا ہے ترا بیمار گداؤں کو ملے شاہی ترے نادار کے باعث بہ فیضِ گفتۂِ جانِ تکلم ہے سخن زندہ سلامت ہیں معانی حاصلِ گفتار کے باعث ترا صدیقِ اکبر کب کسی تعریف کا محتاج ہے روشن جس کا رتبہ ” اِذھُمَا فِی […]