ہو جائے اگر مُجھ پہ عِنایت مرے آقا
ہر آن کرُوں آپ کی مِدحت مرے آقا کرتی رہُوں توصیف میں اُس شہرِ کرم کی اِس دل کی ہے بس ایک ہی حَسرت مرے آقا گر اذنِ حضُوری ہو تو دربار میں آؤں اور چوُم لوں میں آپ کی چوکھٹ مرے آقا جی بھر کے کرُوں گُنبدِ خضرا کا نظارہ آنکھوں میں بھروں سَبز […]