اردوئے معلیٰ

آج اردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر اور ادیب میر تنہا یوسفی کا یومِ وفات ہے ۔

(پیدائش: 1 جنوری 1955ء– وفات: 26 اگست 2019ء)
——
محمد صالح المعروف میر تنہا یوسفی اردو اور پنجابی کے ناول نگار ادیب اور شاعر تھے۔ میر تنہا یوسفی کو 2005ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے کتاب ”کالا چانن“ پر سید وارث شاہ ایوارڈ سے نوازا گیا اس کے علاوہ مسعود کھدر پوش ایوارڈ سے تین دفعہ نوازا گیا اور رائٹرز گلڈ ایوارڈ بھی دیا گیا۔
میر تنہا یوسفی یکم جنوری 1955میں سیالکوٹ میں پیدا ہوائے۔ ان کی کتابیں ’’سورج اگن تائیں‘‘، ’لکنت‘‘، ’’تریہہ‘‘، ’’اک سمندر پار‘‘، ’’کھدو‘‘، ’’کالا چانن‘‘،’’تے فیر‘‘ اور ’’کیکر نوں پچھ‘‘ پنجابی اور اردو ادب کا سرمایہ ہیں 26 اگست 2019ء کو وفات پا گئے۔
——
میر تنہا یوسفی ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے ایک گاؤں آدم کے چیمہ میں آباد بلنگھ جٹ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد چودھری محمد یوسف چونکہ ریڈیو پاکستان میں ملازم تھے اس لیے زندگی کے ابتدائی سال کراچی ، راولپنڈی اور لاہور میں گذارے ۔
اسلام آباد دارالحکومت بنا تو ان کے والد نے یہاں تبادلہ کروا لیا یوں وہ فیڈرل گورنمنٹ ہائی اسکول جی سکس میں ساتویں جماعت میں داخل ہوئے ۔ 1970 ء میں یہیں سے میٹرک کیا اور پھر سینٹرل گورنمنٹ کالج فار مین ، ایچ نائن اسلام آباد سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور روزی روٹی کی خاطر ریڈیو پاکستان کے ساتھ ایک اور جگہ پر بھی نوکری شروع کر دی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : مشتاق احمد یوسفی کا یومِ وفات
——
1981 ء میں قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔ جیو فزکس میں ایم فل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کا ارادہ کیا تو پتہ چلا کہ اس مضمون میں ایم ایس ہی سب سے بڑی ڈگری ہے ۔ اس مضمون میں پی ایچ ڈی کے لیے یونیورسٹی میں اعلیٰ سند یافتہ اساتذہ ہی موجود نہیں ۔
قائد اعظم یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد علامہ اقبال یونیورسٹی سے ” سیم تھور ، زمین کے مسائل اور ان کا حل ” کے موضوعات پر ڈپلوما اور قائد اعظم یونیورسٹی سے کمپیوٹر کی زبان میں پوسٹ گریجوئیٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کیا ۔
1984 ء میں سترہویں گریڈ کی نوکری چھوڑ کر زمانے کی بھیڑ چال کا شکار ہوئے اور ابوظہبی چلے گئے ۔ وہاں فوج میں بطور الیکٹرانکس انجینیئر ملازمت ملی کیونکہ علومِ ارضیات میں کام کا شوق تھا ۔ اس لیے 1997 ء میں آئل فیلڈ انڈسٹری کی ایک ملازمت ملی تو فوج سے استعفیٰ دے دیا ۔ نئی کمپنی کا دفتر ابوظہبی میں تھا اس لیے 2015 ء تک ابوظہبی سے ایک مستقل رابطہ رہا ۔
دو چار مہینے کسی اور ملک میں کام کیا اور ایک دو ماہ اسلام آباد میں گزار لیے یوں وہ پاکستان آتے جاتے رہے ۔ یوں وہ 30 سال پردیس کاٹ کے پہلی ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔
1982 ء سے 1990 ء سے پنجابی میں شعر کہنے والے میر تنہا یوسفی کی اردو غزل پہلی بار 1974 ء میں ایک روزنامہ کے ادارتی صفحے پہ شائع ہوئی جس ایک شعر کچھ یوں تھا :
——
جس سنگ سے بنے گا بُت اُس کی چٹان پر
میں تیرے انتظار میں پتھر کا ہو گیا
——
وہ اسلام آباد کی ادبی ، ثقافتی اور تھیٹریکل تنظمیوں میں سے چند کی داغ بیل ڈالنے والوں میں شامل ہیں ۔ اُن کے ساتھ اسد اللہ مرحوم ، محمود رحیم ، نثار رزمی ، اسلم ساگر اور دوسرے بہت سے احباب شامل تھے ۔
ان دوستوں کے ساتھ آبپارہ میں ” اسلام آباد کلچرل اینڈ لٹریری سوسائٹی ” کی بنیاد رکھی اور 1974 ء میں پہلا مشاعرہ آبپارہ کے کمیونٹی سنٹر میں منعقد کروایا ۔
پنجابی زبان میں ان کے افسانوں کے دو مجموعے ” سورج اُگن تائیں ” اور ” تے فیر ” اور پانچ عدد ناول شائع ہو چکے ہیں ۔
ان میں سے افسانوں کے ایک مجموعے ، تے فیر کو پنجاب رائٹرز گلڈ ایوارڈ کا 2005 ء کا بہترین پنجابی کتاب اور رضیہ فرخ بہترین پنجابی کہانی کا انعام مل چکا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
——
ان کے ناول کالا چانن کو پاکستان اکیڈمی اور لیٹرز سے بہترین پنجابی ناول قرار دیا گیا اور 2005 ء کا وارث شاہ ایوارڈ بھی ملا ۔
2005 ء میں ہی کالا چانن کو مسعود کھدر پوش ٹرسٹ کی جانب سے بہترین پنجابی ناول کا حقدار سمجھا گیا ۔
اک سمندر پار اور کالا چانن بھارتی پنجاب میں جب گورمکھی میں شائع ہوئے تو بھارت والوں نے یوسفی صاحب کو پیشگی اطلاع دینا بھی مناسب نہ سمجھا مگر وہ اس پر بھی کہتے ہیں :
میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھ جیسے انسان کو بھارت میں بھی عزت بخش دی جس کی اپنے ملک میں کوئی پی آر اور پروموشنل گروپ بندی نہیں ہے ، اب وہاں بھی میرے ناولوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور سراہا جاتا ہے ۔
اُن کی غزلیں ، نظمیں ، فنون ، ادبیات ، تخلیق ، ماہِ نو ، لہراں ، سویر ، ساہت ، لکھاری اور دیگر ادبی رسالوں میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔
ان کی شاعری کا مجموعہ ” لکنت ” کے نام سے 1996 ء میں شائع ہوا اس کا ایک شعر ملاحظہ کریں :
——
کبھی یہ طے نہ کر پائے گی خوشبو
کہاں ہونا ، کہاں ہونا نہیں ہے
——
لاہور ویمن کالج یونیورسٹی کی ایک طالبہ اُن کے ناول ” انھا کھوہ ” پر تحقیقی کام کر کے بی ایس کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں ۔
وہ اپنے بارے میں کہتے ہیں :
” میں اپنے بڑوں کی اور اپنی جنم بھومی ڈسکہ کو کبھی نہیں بھولا کیونکہ میرا گاؤں اب بھی میرا رومانس ہے ۔ ماجھے کی پنجابی بولنے کے ساتھ ساتھ مجھے پوٹھوہاری بولنے میں بھی کافی لطف ملتا ہے ۔ کھانا سادہ ہو یا پر تکلف سب کچھ پسند ہے ۔ دال ، مکئی کی روٹی اور ساگ سے لے کر بکرے کے گوشت کی کڑاہی اور مہاشیر مچھلی تک سب کچھ کھا جاتا ہوں ۔ اُبلے ہوئے چاولوں پر گرم دودھ اور شکر یا چینی یا مرغی کی بریانی ملے تو اب بھی منہ سے سبحان اللہ نکل جاتا ہے ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تقریباََ 27 ملکوں کی خاک چھانی اور وہاں کے اجنبی اور بے ذائقہ کھانوں کے تشدد کا نشانہ بنا تو ادراک ہوا کہ میں تو اس دھرتی کا باسی ہوں جہاں ایسا ایسا ذائقہ ہے جس سے محظوظ ہونے کی اجازت خدا نے کسی دوسرے خطے کے لوگوں کو نہیں دی ۔
اپنی زندگی کے نچوڑ اور کامیابیوں یا ناکامیوں کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ حاتم طائی کے چار اقوال مشہور ہیں ان میں سے ایک ہے کہ ” پس میں نے جان لیا کہ جو میرے پاس ہے وہ کم ہے نا زیادہ ، میں نے تھوڑے کو زیادہ جانا اور زیادہ کی طلب چھوڑ دی ” ۔ الحمد للہ میں نے حاتم کی اس بات کو پلے سے باندھ لیا اور یاد رکھا کہ گھونسلے میں بیٹھے جوان پرندے کو دانہ دُنکا نہیں ملتا ۔ میں اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کرتا ہوں جنہوں نے زندگی کے مطالبے کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہمت سے پورا کیا اور ناکامیوں کے باوجود کبھی افسوس نہیں کیا ۔
میں معاشرے کا عام سا فرد ہوں ، رسم و رواج کا پابند ، مگر پھر بھی کوشش کرتا ہوں کہ شہرت ، جھوٹی نام داری اور کھوکھلا عروج حاصل کرنے کے رائج الوقت ہتھکنڈوں سے اجتناب برتوں ۔ اپنے اس چلن سے مجھے اس کا پھل یوں ملا ہے کہ وطن سے غیاب کے سالوں میں میرے تحریر کردہ ناولوں اور کتابوں کو مختلف انعامات سے نوازا گیا کہ عطر اپنا تعارف خود کرواتا ہے نہ کہ عطار ۔
——
یہ بھی پڑھیں : صدیقہ بیگم کا یومِ وفات
——
مجھے تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ جب کبھی میرا ناول کسی انعامی مقابلے میں بھیجا گیا تو بھیجنے والے مہربان کون تھے ۔ کن قابلِ قدر ہستیوں نے مصنفین کا قرض نبھایا ۔ مدتوں بعد طیور کی زبانی اگر اڑتی ہوئی خبر مجھ تک پہنچتی تھی تو اُس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہوتا تھا ۔
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
مجھ پرِ کاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
اسیرِ راہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
وہ جس نے ساری ہواؤں کے رُخ بدل ڈالے
اسی نگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
جو دیکھ آتے ہیں اک بار جالیاں ان کی
آرامگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
وہ یارِغار جو آقا پہ جان دیتا تھا
رفیقِ شاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
جہاں سے پڑھ کے اٹھے عُمر اور علی سے زعیم
ہاں! خانقاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
غنی نے جس کو خریدا بحکمِ شاہِ رُسل
کہو تو چاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
جو بات کرتے ہیں اسدالرسول حمزہ کی
وہ کج کلاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں۔
کریں جو بات کہِیں عَمرو، سعد و خالد تو
جلال و جاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
وہ جس نے قیصر و کسری کو خاک چٹوائی
اُسی سپاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
کہیں پہ روکنا پڑ جائے ذکر تو تنہا
وہیں سے ماہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں
——
دن کڑی دھوپ میں کٹ جائے گا تنہاؔ یوں بھی
وعدۂ یار کی یہ رات بِتا لی جائے
——
لَوٹا تھا خالی ہاتھ میں ، دیکھا کہ سامنے
لاچارگی کی شام تھی ، آنگن نہیں تھا وہ
——
سمجھ میں کچھ نہیں آتا وہ آگے کیا لکھیں
جو خود کو راکھ ، زمانے کو اک ہوا لکھیں
ترے کہے کو تو ہم حکم ہی کہیں لیکن
جو ہم کہیں اسے کس طور التجا لکھیں
——
چودہ صدیوں کی روانی اک طرف
کربلا کی جاودانی اک طرف
اک طرف ذکِر مقامِ ابتلا
بہتے اشکوں کی روانی اک طرف
——
جو رندوں پہ گذری ہے بتاتے تو نہیں پر
پوچھو تو بہت ٹھہری سی اِک نوحہ گری ہے
——
بات جب ناگہاں بدلتی تھی
بے طرح داستاں بدلتی تھی
لاکھ بدلے زمانہ اور موسم
دل کی حالت کہاں بدلتی تھی
——
مجھے اس کے یہاں ہونا نہیں ہے
زمیں کو آسماں ہونا نہیں ہے
کبھی یہ طے نہ کر پائے گی خوشبو
کہاں ہونا، کہاں ہونا نہیں ہے
نہیں ہے آب و دانہ ہی سبھی کچھ
قفس کو آشیاں ہونا نہیں ہے
بھنور بُنتی ہوئی ان آندھیوں کو
ہوائے بادباں ہونا نہیں ہے
جو تپتی ریت پر ہے خوں سے لکھا
وہ زیبِ داستاں ہونا نہیں ہے
جو رشتہ آنکھ میں آنسو بسا دے
وہ نظروں سے عیاں ہونا نہیں ہے
نہ قصداً، نہ ہی تنہا اتفاقاً
حسابِ دوستاں ہونا نہیں ہے۔
——
آر یا اُس پار کا سوچا نہ تھا
اُٹھ چکی دیوار کا سوچا نہ تھا
دیدہ و دل جل رہے ہیں دم بدم
گرمیٔ بازار کا سوچا نہ تھا
جو بنا ہے، بن گیا ہے خود بخود
ہم نے تو شاہکار کا سوچا نہ تھا
وہ تو قسمت میں یہی تھا، بچ گئے
اُس نے تو بیمار کا سوچا نہ تھا
عادتاً ہی آ گئے ہیں اِس طرف
کوچۂ دلدار کا سوچا نہ تھا
تم نے پوچھا ہے تو کچھ کہنا پڑا
ہم نے تو اظہار کا سوچا نہ تھا
تم نے یہ مطلب لیا تو کیا کریں
تنہاؔ نے انکار کا سوچا نہ تھا
——
جب تک ہے اُدھر جلسۂ اغیار سلامت
تب تک ہیں اِدھر یاروں کے طومار سلامت
آیا ہے جو مے خانے میں اب ساقیٔ گلپوش
اب نظریں سلامت ہیں نہ گفتار سلامت
اب چھوڑو کناروں کو ملانے کا یہ قصہ
رہنے دو عدو کو ابھی اُس پار سلامت
رہ دیکھ رہا ہوں کسی اپنے کی مسلسل
جب تک ہے مرا دیدۂ بیدار سلامت
اترے گا جونہی موسم گل شہر میں تنہا
سر ہوں گے سلامت نہ ہی دیوار سلامت
——
بھانبڑ بالے، بتی بالی
مکدی نہیں پئی رات ایہ کالی
جوڑی، توڑی، توڑ کے جوڑی
ہر شے اٌنجے ای اے حالی
آ سپاں نے قبضہ کیتا
گئی اکارت دٌدھ دی پیالی
کسے وی قصے وچ نہیں دِسدے
نال کھلوتے یار مثالی
بٌوٹے وڈھ کے سوچ رہیا واں
دِسدی کیوں نہیں چڑی یاں لالی
میں وی ساں کجھ رٌجھیا ہویا
اوہنے وی گل کل تے ٹالی
سجناں دا دیدار اے تنہا
سفنے ورگی بات خیالی
——
حوالہ جات
——
تحریر و اقتباسات از غلام محی الدین / اسلام آباد
روزنامہ ایکسپریس ، جمعرات 14 اپریل 2016 ء
شعری انتخاب از میر تنہا یوسفی فیس بک صفحہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات