ہم آئے ہیں لَو اُن کے در سے لگا کے
اُنہیں اپنا ملجا و ماوٰی بنا کے ہر اک رنج و غم میں اُنہی کو پکارا وہ بخشیں گے فرحت مدینے بلا کے میں پہنچا ہوں دربارِ فریاد رس میں ’’ہوا بوجھ ہلکا غمِ دل سُنا کے‘‘ کیا ذکر اُونچا ہے اُن کا خُدا نے جہاں میں ہیں چرچے مرے دلرُبا کے وہ معراج کی […]