میرا جی کا یوم پیدائش

آج مشہور معروف شاعر میرا جی کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 25 مئی 1912ء – وفات: 3 نومبر 1949ء) —— نام: محمد ثنا اللہ ثانی ڈار والد کا نام: منشی محمد مہتاب الدین والدہ کا نام: زینب بیگم عرف سردار بیگم ولادت میرا جی: ۲۵ مئی ۱۹۱۲ء تخلص: پہلے ’’ساحری‘‘ اور پھر ’’میرا جی‘‘۔ ہزلیہ […]

جعفر طاہر کا یوم وفات

آج معروف شاعر جعفر طاہر کا یوم وفات ہے (پیدائش: 19 مارچ 1917ء — وفات: 25 مئی 1977ء) —— سید جعفر طاہر:اب کہاں دنیا میں ایسی ہستیاں از ڈاکٹر غلام شبیر رانا —— سید جعفر طاہر 29 مارچ 1917کو جھنگ کے ایک معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ایم۔ بی ہائی سکول […]

حسن شاہنواز زیدی کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر ، مترجم اور مصور حسن شاہنواز زیدی کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 24 مئی 1948ء) —— پاکستان کے ممتاز مصور، شاعراور مترجم حسن شاہنواز زیدی 24 مئی 1948ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1968 میں پنجاب یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں ایم اے کیا اور 1969 میں اسی شعبے سے بطور لیکچرر […]

مجروح سلطانپوری کا یوم وفات

آج فلمی نغمہ نگار اور شاعر مجروح سلطانپوری کا یوم وفات ہے —— (17 جون 1920ء – 24 مئی 2000ء) —— سوانحی خاکہ از خلیق انجم —— ایک دفعہ میں نے مجروح صاحب سے ان کا سن ولادت دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ یقین کے ساتھ تو کچھ نہیں کہہ سکتے، لیکن […]

مولانا احمد علی لاہوری کا یوم پیدائش

آج مشہور عالم دین اور مفسر قرآن مولانا احمد علی لاہوری کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 24 مئی 1887ء وفات: 23 فروری 1962ء) —— مولانا احمد علی لاہوری گوجرانوالہ کے ٹاؤن گکھڑ منڈی کے نزدیک قصبہ جلال میں 24 مئی 1887ء بمطابق 2 رمضان المبارک 1304 ہجری کو پیدا ہوئے۔ —— ولی کامل مولانا احمد […]

دلشاد کلانچوی کا یومِ پیدائش

آج اردو اور سرائیکی زبان کے نامور محقق ، نقاد ، شاعر اور مترجم پروفیسر دلشاد کلانچوی کا یومِ پیدائش ہے ۔ (پیدائش: 24 مئی، 1915ء – وفات: 16 فروری، 1997ء) —— خاندان پس منظر و پیدائش —— دلشاد کلانچوی کا سلسلہ نسب حضرت علی بن ابی طالب کی غیر فاطمی اولاد سے جا ملتا […]

نیاز فتح پوری کا یوم وفات

آج ادبی جریدے نگار کے مدیر، شاعر، نقاد، مترجم اور افسانہ نگار نیاز فتح پوری کا یوم وفات ہے (پیدائش: 28 دسمبر، 1884ء- وفات: 24 مئی، 1966ء) —— ’’اُن (نیاز فتح پوری) کی ذات کے احاطہ میں اتنے خلّاقی کے شہر آباد ہیں، اتنے شعور کے لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں اور رامش و رنگ […]

جو کچھ بساطِ دستِ جنوں میں تھا ، کر چکے

سو بار جی چکے ہیں تو سو بار مر چکے واجب نہیں رہی کوئی تعظیم اب تمہیں ہم مسندِ خدائے سخن سے اتر چکے تم کو فنا نہیں ہے اساطیر کی طرح ہم لوگ سرگزشت رہے تھے گزر چکے یوں بھی ہوا کے ساتھ اڑے جا رہے تھے پر اک ظاہری اڑان بچی تھی سو […]

اپنے تصورات کا مارا ہوا یہ دل

لوٹا ہے کارزار سے ہارا ہوا یہ دل صد شکر کہ جنون میں کھوٹا نہیں پڑا لاکھوں کسوٹیوں سے گزارا ہوا یہ دل آخر خرد کی بھیڑ میں روندا ہوا ملا اک مسندِ جنوں سے اتارا ہوا یہ دل تم دوپہر کی دھوپ میں کیا دیکھتے اسے افلاک نیم شب کا ستارا ہوا یہ دل […]

الجھے ہوئے ہیں عمر کی شاخوں کے ساتھ ہم

نکلے تھے رقص کرنے بگولوں کے ساتھ ہم وقتِ سحر کھلی ہے تو اوقات رہ گئی اترے تھے ایک آنکھ میں خوابوں کے ساتھ ہم دیوار و در پہ رقص کناں دیکھتے ہوئے مانوس ہو چلے ہیں ہیولوں کے ساتھ ہم بنتِ قمر کوئی تھی ، کہ خورشید زاد تھے آخر بجھا دیے گئے پھونکوں […]