حفیظ بنارسی کا یومِ پیدائش

آج معروف شاعر حفیظ بنارسی کا یومِ پیدائش ہے ۔ (پیدائش: 20 مئی 1933ء – وفات: 16 جون 2008ء) —— مختصر سوانح —— حفیظ بنارسی 20 مئی 1933 ء کو بنارس ، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام الحاج قاری عبد القیوم اور والدہ کا نام محترمہ رقیہ بی بی تھا ۔ […]

وہ شاہِ مرسَلانِ زمن آخری رسول

وہ جس سے سالکوں کو ملیِ منزلِ اصول گردوں ہے جسکے پائے مبارک کے نیچے پھول وہ جس کے راستے کی مہ و کہکشاں ہیں دُھول پیغامِ حق کو لے کے وہ خیر البشر چلے طائف کی وادیوں کے مقدّر سنور چلے

صحرائے بے اماں میں ہوئے آپ رہ نورد

ماحول سنگ سنگ تھا، موسم تھا گرد گرد پُر خوف راستوں میں رواں وہ عظیم فَرد چہرے تمام اجنبی ، لہجے تمام سَرد طائف کے کافروں میں پہنچ کر بنامِ رب سردارِ انبیاء نے سنایا پیامِ رب

خلقت خدا کی آپ کو کیا کیا ستاتی تھی

مجنوں بتاتی تھی، کبھی شاعر بتاتی تھی اِک بڑھیا روز آپ پہ کوڑا گراتی تھی کوڑا گرا کے دیکھتی تھی ، مُسکراتی تھی اِک روز یوں ہوا کہ وہ بیمار ہو گئی گھر تک میں چلنے پھرنے سے لاچار ہو گئی

تم پہلی اُمّتوں کے برُے کام چھوڑ دو

یہ سجدہ ریزی پیشِ دَد و دام چھوڑ دو غیر از خدائے پاک سبھی نام چھوڑ دو رب کے لئے پرستشِ اصنام چھوڑ دو ورنہ خدا کا قہر کچھ اتنا شدید ہے دوزخ کے لب پہ نعرۂ ’’ ہَل من مزید ‘‘ ہے

پھر آپ نے کہا کہ ’’ یہ مانو خدا ہے ایک

اِس ساری کائنات کا حاجت روا ہے ایک معبود سب کا ایک ہے مشکل کشا ہے ایک مولائے آب و آتش و خاک و ہوا ہے ایک مشہود وہ ہے اور میں اس کا شہید ہوں میں مصطفی رسولِ خدائے وحید ہوں ‘‘

چیخا پہاڑ ، دشت پکارا ” نہیں نہیں "

چیخا پہاڑ ، دشت پکارا ” نہیں نہیں ” بولا حدِ زمیں کا کنارا ” نہیں نہیں ” رب نے کسی کو کہہ کے اُتارا ” نہیں نہیں ” قومِ حجاز بولی دوبارہ ” نہیں نہیں ” کہنے لگے وہ دِل کی گرہ کھولتے ہوئے دیکھا ہمیشہ آپ کو سچ بولتے ہوئے

اس طُرفہ جُود و لطف و عنایت پہ میں نثار

حاجت اِدھر ہے ایک تو بخشش اُدھر ہزار تارِ نَفَس اِدھر ، اُدھر الطاف کی قطار بے حد مری خطائیں ، کرم اس کے بے شمار اِتراؤں کس لئے نہ میں اپنے نصیب پر وہ شاہ مہربان ہے مجھ سے غریب پر