اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر حفیظ بنارسی کا یومِ پیدائش ہے ۔

حفیظ بنارسی(پیدائش: 20 مئی 1933ء – وفات: 16 جون 2008ء)
——
مختصر سوانح
——
حفیظ بنارسی 20 مئی 1933 ء کو بنارس ، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام الحاج قاری عبد القیوم اور والدہ کا نام محترمہ رقیہ بی بی تھا ۔ حفیظ بنارسی کا گھرانا حجاج و حفاظ اور سند یافتہ قاریوں کا گھرانہ تھا ۔ حفیظ بنارسی کے جدِ امجد قندھار سے بہ غرض تجارت ہندوستان آئے اور بنارس میں مستقل بود و باش اختیار کی ۔
حفیظ بنارسی کے والدِ محترم بھی بنارسی کپڑے اور ساڑھیوں کا کاروبار کرتے تھے ۔
بہت کم عمری میں والدِ محترم وفات پا گئے ۔ 1951 ء میں انٹر میڈیٹ کیا اور 1953 ء میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے بی اے کیا ۔
1954 ء میں مشاعروں اور ادبی محفلوں میں باقاعدہ شرکت کرنا شروع کی ۔ واضح رہے کہ حفیظ بنارسی نے سب سے پہلے بزمِ ادب بنارس کے ایک مشاعرہ میں اپنی غزل سنائی تھی ۔ یہ وطنِ عزیز کی آزادی کے سال کا واقعہ ہے ۔ اس وقت وہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی عملی زندگی میں مشاعروں کے مقبول شاعر بنے ۔ نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی مشاعروں میں بلائے جاتے تھے ۔
شارجہ ، دوبئی ، جدہ اور سعودی عرب کے مشاعروں میں بھی شرکت کی ۔ قدرت نے حسنِ آواز کی خاص دولت انہیں بخشی تھی ۔
1955 ء میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے ہی ایم اے انگریزی پاس کیا اور 1956ء میں بی ایڈ کرنے کے بعد مسلم کالج یو پی میں بہ حیثیت لیکچرر تقرری ہوئی ۔
1957 ء میں مہاراجہ کالج آرہ میں لیکچرر کے طور پہ تقرری ہوئی ۔ شادی 1960ء میں صالحہ خاتون بنت عبد الاول سے ہوئی ۔
1968 ء میں ” گلدستہ ” کی اشاعت ہوئی ، جب کہ 1969 ء میں غزلوں ، نظموں اور قطعات و رباعیات پہ مشتمل مجموعے ” درخشاں ” کی اشاعت ہوئی ۔
1974 ء میں حمدیہ و نعتیہ مجموعے ” بادۂ عرفاں ” کی اشاعت عمل میں آئی ۔
اسی سال اہلیہ کے ساتھ حج کی سعادت ملی جب کہ اس سے قبل حفیظ بنارسی بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ بھی حج پہ جا چکے تھے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : آغا حشر کاشمیری کا یوم وفات
——
1975 ء میں نظموں کے مجموعہ ” قول و قسم ” کی اشاعت ہوئی جس پہ اتر پردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمی کی جانب سے انعام دیا گیا ۔
1981 ء میں ” بندۂ مومن ” کی اشاعت ہوئی یہ ایک طویل نظم پہ مشتمل کتابچہ ہے ۔
1984 ء میں غزلوں کا مجموعہ ” غزالاں ” شائع ہوا ۔ جب کہ دو سال بعد 1986 ء میں اسی مجموعہ پہ بہار اردو اکادمی کی جانب سے انعام دیا گیا ۔
1989 ء میں والدہ محترمہ کا انتقال ہوا ۔
1993 ء میں ” قصیدۂ نبیِ رحمت ” شائع ہوا ۔
1995 ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے
1997 ء میں ملت سوسائٹی بنارس کی جانب سے شانِ ملت ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
2000 ء میں کاشی رتن ایوارڈ بنارس سے نوازے گئے ۔
2003 ء میں مدر حلیمہ فاؤنڈیشن بنارس کی جانب سے نگارِ بنارس ایوارڈ دیا گیا ۔
2007 ء میں غزلوں اور نظموں پر مستمل کلیاتِ سخن ” سفیرِ شہرِ دل ” شائع ہوئی ۔
2008 ء 16 جون بروز دو شنبہ حفیظ بنارسی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور آبائی قبرستان ریوڑی تالاب بنارس میں دفن ہوئے ۔
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
سب سے اعلیٰ سب سے ارفع شانِ ربُ العالمین
ساری تعریفیں ہیں بس شایانِ ربُ العالمین
ہر طرف ہے اُس کی قدرت کا کرشمہ آشکار
ہر جگہ ہے جلوۂ تابانِ ربُ العالمین
ہے کشادہ سب کی خاطر اُس کا دربارِ کرم
عام ہے سب کے لیے فیضانِ ربُ العالمین
سر وہی ہے جس میں ہو سودا خدائے پاک کا
دل وہی ہے جس میں ہو ارمانِ ربُ العالمین
جس کو حاصل ہو گئی پہچان اپنے نفس کی
اُس کو حاصل ہو گیا عرفانِ ربُ العالمین
ہو نہیں سکتا ادا اس کے کرم کا شکریہ
اس قدر ہم سب پہ ہیں احسانِ ربُ العالمین
جنت الفردوس کے وارث وہی ہوں گے حفیظؔ
ہیں جو دل سے تابعِ فرمانِ ربُ العالمین
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
——
نورِ حقیقت ، جلوۂ فطرت صلی اللہ علیہ و سلم
عرش کی رونق ، فرش کی زینت صلی اللہ علیہ و سلم
بزمِ ازل کی شمعِ درخشاں ، فخرِ ملائک ، فخرِ انساں
فخرِ نبوت ، فخرِ رسالت صلی اللہ علیہ و سلم
آپ کی تخلیق اول اول آپ کی بعثت آخر آخر
روحِ فسانہ ، جانِ حقیقت صلی اللہ علیہ و سلم
صبحِ ازل ، رُخسارِ منور ، شامِ ابد گیسوئے مطہر
اللہ اللہ آپ کی صورت صلی اللہ علیہ و سلم
حضرت عیسیٰؑ ، حضرت موسیٰؑ ، سب کی زباں پر آپ کا چرچا
آپ کی سب نے دی ہے بشارت صلی اللہ علیہ و سلم
حسنِ حقیقی آپ کا شائق ، بعدِ خدا ہیں آپ ہی فائق
واہ رے رتبہ ، واہ رے عظمت صلی اللہ علیہ و سلم
حسنِ مجسم ، ذاتِ مکرم ، آپ کے صدقے دونوں عالم
آپ کی خاطر ساری خلقت ، صلی اللہ علیہ و سلم
آپ کے مُنکر آپ کو مانیں ، اپنا امین و صادق جانیں
واہ رے امانت ، واہ رے صداقت صلی اللہ علیہ و سلم
صلح و وفا ہو جنگ و جدل ہو ، خواہ وہ کوئی بزمِ عمل ہو
آپ نے کی ہے سب کی صدارت صلی اللہ علیہ و سلم
خار کے بدلے پھول کی بارش ، واہ رے اُن کی شانِ نوازش
دشمنِ جانی پر بھی عنایت صلی اللہ علیہ و سلم
بزمِ زمیں یا بزمِ فلک ہو ، حشر کا دن معراج کی شب ہو
ہر دم ذکر و فکرِ امت صلی اللہ علیہ و سلم
رہبرِ عالم ہادیٔ دوراں ، سارے جہاں پر آپ کا احساں
سب کی خاطر آپ ہیں رحمت صلی اللہ علیہ و سلم
شاہ و گدا کا فرق مٹایا ، بندۂ حق کو حق سے ملایا
آپ پہ نازاں حسنِ ہدایت صلی اللہ علیہ و سلم
جامِ محبت سب کو پلایا ، مژدۂ رحمت سب کو سنایا
ساقیِ کوثر ، مالکِ جنت صلی اللہ علیہ و سلم
جس نے ” رفعنا ” کہہ کے کیا ہے آپ کا نامِ نامی اونچا
بس وہی جانے آپ کی رفعت صلی اللہ علیہ و سلم
ذکرِ نبی ہے باعثِ رحمت ، ذکرِ نبی ہے کیف و مسرت
مجھ کو حفیظؔ اس سے ہے عقیدت صلی اللہ علیہ و سلم
——
راہِ حق سے ہمیں آشنا کر گئے
دردِ انسانیت کی دوا کر گئے
اُن کی خیرالورائی کے صدقے حفیظؔ
اُن پہ قرباں جو سب کا بھلا کر گئے
——
اک زمانے پہ ہے احسانِ رسولِ عربی
عام ہے چشمۂ فیضانِ رسولِ عربی
غیر ممکن اُسے عرفانِ خدا ہو حاصل
جس کو حاصل نہیں عرفانِ رسولِ عربی
——
محشر میں شور اُٹھے گا مجھے دیکھ کر حفیظؔ
وہ آ رہا ہے دیکھیے دیوانۂ رسول
——
گیسوئے خم بہ خم کا افسانہ بھول بیٹھے
یوں پاؤں میں پڑی ہے زنجیر زندگی کی
——
ہر چند غم کے ہاتھوں ستائے ہوئے تو ہیں
ہم بوجھ زندگی کا اٹھائے ہوئے تو ہیں
——
رات جتنی طویل ہوتی ہے
صبحِ نو کی دلیل ہوتی ہے
——
تدبیر کے دستِ زریں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے
قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوششِ انساں ہوتی ہے
——
کوئی بتلائے کہ یہ طرفہ تماشا کیوں ہے
آدمی بھیڑ میں رہتے ہوئے تنہا کیوں ہے
پاؤں پھیلائے ہوئے غم کا اندھیرا کیوں ہے
آ گئی صبح تمنا تو پھر ایسا کیوں ہے
میں تو اک ذرۂ ناچیز ہوں اور کچھ بھی نہیں
وہ جو سورج ہے مرے نام سے جلتا کیوں ہے
تجھ کو نسبت ہے اگر نام براہیم سے کچھ
آگ کو پھول سمجھ آگ سے ڈرتا کیوں ہے
کون سا عہد ہے جس عہد میں ہم جیتے ہیں
دشت تو دشت ہے دریا یہاں پیاسا کیوں ہے
پی کے بہکے گا تو رسوائی محفل ہوگی
وہ جو کم ظرف ہے میخانے میں آیا کیوں ہے
کوئی آسیب ہے یا صرف نگاہوں کا فریب
ایک سایہ مجھے ہر سو نظر آتا کیوں ہے
یاد کس کی مہ و خورشید لیے آئی ہے
شب تاریک میں آج اتنا اجالا کیوں ہے
بد حواسی کا یہ عالم کبھی پہلے تو نہ تھا
حشر سے پہلے ہی یہ حشر سا برپا کیوں ہے
——
جو خط ہے شکستہ ہے جو عکس ہے ٹوٹا ہے
یا حسن ترا جھوٹا یا آئنہ جھوٹا ہے
ہم شکر کریں کس کا شاکی ہوں تو کس کے ہوں
رہزن نے بھی لوٹا ہے رہبر نے بھی لوٹا ہے
یاد آیا ان آنکھوں کا پیمان وفا جب بھی
ساغر مرے ہاتھوں سے بے ساختہ چھوٹا ہے
ہر چہرے پہ لکھا ہے اک قصۂ مظلومی
بے درد زمانے نے ہر شخص کو لوٹا ہے
منزل کی تمنا میں سر گرم سفر ہیں سب
کون اس کے لیے روئے جو راہ میں چھوٹا ہے
اللہ رے حفیظؔ اس کا یہ ذوق خود آرائی
جب زلف سنواری ہے اک آئنہ ٹوٹا ہے
——
حوالہ جات
——
سوانح از تجلیاتِ حفیظ ، شائع شدہ 2010
باب : توقیتِ حفیظ از شہزاد انور انصاری ، صفحہ نمبر 37 تا 44
شعری انتخاب : بادۂ عرفاں ، تجلیاتِ حفیظ ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات