(تحیر)رگِ جاں میں تحیر سا اُتر آیا اُس اک پل میں
رگِ جاں میں تحیر سا اُتر آیا اُس اک پل میں کہ جب یکلخت میرے دل پر اُن کا نقشِ پا اُبھرا تحیر میں تھا ششدر، لرزہ بر اندام تھا اُس پَل کہ یہ قلبِ سیہ میرا ،اور اس پر نعلِ پاک اُن کا؟ یہ دل تھا مخمصے میں تب یہ دھڑکے یا کہ رک […]