یا مرے مولا مجھے اپنے کرم کی بھیک دے

بھیک دے مجھ کو شہنشاہ اتم کی بھیک دے علم و فن میں برکتیں دے از طفیل پنجتن مالک لوح و قلم لوح و قلم کی بھیک دے رزق دے رزاق کر میری دعاے دل قبول ابن عبد اللہ کے جاہ و حشم کی بھیک دے سنگ اسود چومنے کی ہے مجھے خواہش بہت حج […]

حصارِ دہر ہے ذکر خدا سنبھالے ہوئے

کبھی سنبھلتا نہیں زلزلہ سنبھالے ہوئے کسی ستون پہ ٹھہراؤ آسماں کا نہیں مرے خدا کی ہے ابتک رضا سنبھالے ہوئے وہ لفظ کُن سے جو چاہے وہ خلق فرمائے رسول پاک ہیں اُس کی عطا سنبھالے ہوئے یہ چاند تارے نظام فلک زمین و زماں خدا کے بعد ہیں صل علیٰ سنبھالے ہوئے رسول […]

نمو کے جوش میں ذوقِ فنا حجاب بنا

شریکِ بحر جو قطرہ ہوا حباب بنا تو آپ اپنے ہی جلووں میں رہ گیا گھر کر ترا ہی عکس ترے حسن کا جواب بنا بچھڑ کے تجھ سے ترا سایہ جہاں افروز سحر کو مہر بنا ، شب کا ماہتاب بنا نہ مٹ سکے گا ترا نقش لوحِ فطرت سے نہ بن سکے گا […]

ہمیں سے جستجوئے دوست کی ٹھانی نہیں جاتی

تن آسانی بری شے ہے ، تن آسانی نہیں جاتی ہمیشہ دامن اشکِ خوں سے لالہ زار رہتا ہے یہ فطرت کے تبسم کی گل افشانی نہیں جاتی نظامِ دہر اگر میرے لیے بدلا تو کیا بدلا کسی گھر سے بھی شامِ غم بآسانی نہیں جاتی جنوں میں ہوش کیا جاں بھی بسا اوقات جاتی […]