الٰہی تو ہے کردگارِ جہاں

دو عالم میں ہے سکہ تیرا رواں سرِ فرش سے عرش تک بے گماں برابر ہے تجھ پر عیاں و نہاں ہزاروں طرح کے چمن در چمن کھلاتا ہے تُو لالہ و یاسمن نسیمِ سحر کو تری آرزو پھراتی ہے شام و سحر چار سُو اُگائے ہزاروں طرح کے شجر دیے سبز و شاداب برگ […]

تھے وہاں گامزن حق کے پیارے

اک فرشتہ جہاں پر نہ مارے وہ جو غربت میں دے دیں سہارے خود مسافر کو منزل پکارے بھیک دو آمنہ کے دلارے اک بھکاری ہے دامن پسارے ان کے آنسو حسیں اور اتنے جیسے عرش الٰہی کے تارے مسکرانے میں کوثر کی موجیں اور تبسم میں رحمت کے دھارے سجدہ ریز ان کے قدموں […]

آنس معین کا یوم ولادت

آج 29 نومبر معروف شاعر ” آنس معین ” کا یوم ولادت ہے ۔ (پیدائش: 29 نومبر 1960ء – وفات: 5 فروری 1986ء) —— آنس معین کاسوانحی خاکہ, تحریر و ترتیب: طفیل ہوشیار پوری —— نام: سَیّد آنؔس معین ادبی نام :آنؔس معین تخلص : آنؔس مقام و تاریخ ِ ولادت: لاہور:29نومبر1960 محمد طفیل (مدیر […]

شاہین عباس کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر شاہین عباس کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 29 نومبر 1965ء ) —— خدا کے دن از نوید صادق —— پیکٹ کھلا اور شاہین عباس کا مجموعہ کلام ”خدا کے دن“ ہمارے سامنے تھا۔ یہ کیا نام ہوا؟ اس کے پیچھے کیا بات ہے؟ عام بات، عام کام۔۔۔ وہ تو خیر ہم پہلے […]

گھٹنے لگتی ہے تو سرکار بڑھا دیتے ہیں

لو چراغوں کی لگاتار بڑھا دیتے ہیں کس قدر حسن عنایت ہے مرے آقا کا کہ ضرورت سے بھی دو چار بڑھا دیتے ہیں دھوپ میں بیٹھے فقیروں کی خبر ہے ان کو دور تک سایۂ دیوار بڑھا دیتے ہیں آپ کے رحم کی تقسیم بڑھی جاتی ہے لوگ جب گرمئ بازار بڑھا دیتے ہیں […]

ادھر ادھر تو کئی راستے بنے ہوئے ہیں

جو آپ کے ہیں وہ بس آپ کے بنے ہوئے ہیں خدا کی دین ہے ہاتھوں پہ کس کے کیا لکھ دے کہیں لکیریں کہیں قافلے بنے ہوئے ہیں دکھائی دیتا ہے شفاف ان میں عشق رسول ہمارے چہروں پہ جو آئنے بنے ہوئے ہیں یہاں پہ حکم ہے آوازیں پست رکھنے کا نبی سے […]

جس میں ترا عکس اتر گیا ہے

آئینہ وہی سنور گیا ہے جو نام پہ تیرے مر گیا ہے دنیا میں وو نام کر گیا ہے بیگانہ رہا جو تیرے در سے کم بخت وہ در بدر گیا ہے جس کو بھی ملا ترا سفینہ خوش بخت وہ یار اتر گیا ہے آئینۂ مصطفیٰ میں آ کر کیا جلوۂ حق نکھر گیا […]

ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کا

کیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کا بنا ہے مہبط جبرئیل کاشانہ محمد کا اب افسانہ خدا کا ہے ہر افسانہ محمد کا ڈرے کیا آتش دوزخ سے دیوانہ محمد کا کہ اٹھے شعلے گل کرتا ہے پروانہ محمد کا ظہور حال و مستقبل سے ماضی کو ملا دوں گا مجھے پھر آج دہرانا […]

بے اصولی اصول ہے پیارے

یہ تری کیا ہی بھول ہے پیارے کس زباں سے کروں یہ عرض کہ تو پرلے درجے کا فول ہے پیارے واہ یہ تیرا زرق برق لباس گویا ہاتھی کی جھول ہے پیارے تو وہ گل ہے کہ جس میں بو ہی نہیں تو تو گوبھی کا پھول ہے پیارے مجھ کو بلوائیو ڈنر کے […]

مجھ کو رخ کیا دکھا دیا تو نے

لیمپ گویا جلا دیا تو نے ہم نہ سنتے تھے قصۂ دشمن ریڈیو پر سنا دیا تو نے میں بھی اے جاں کوئی ہریجن تھا بزم سے کیوں اٹھا دیا تو نے گا کے محفل میں بے سُرا گانا مجھ کو رونا سکھا دیا تو نے کیا ہی کہنے ہیں تیرے دیدۂ تر ایک نلکہ […]