بدل گیا جو زمانہ بدل گئے تم بھی
تمہیں بھی لگ گئی آخر ہوا زمانے کی
معلیٰ
تمہیں بھی لگ گئی آخر ہوا زمانے کی
جلاؤ دل کہ ضرورت ہے دل جلانے کی
میری یک یک سانس پر ہے صرف تیرا اختیار موت بھی قبضہ میں تیرے زندگی بھی تیری دین غم کے بدلہ میں عطا کیں تو نے خوشیاں بے شمار سب تری حمد و ثنا میں رات دن مشغول ہیں گنگناتی ندیاں اور گیت گاتے آبشار حور و غلماں ، جن و انساں ، ماہ و […]
پوچھو تو بہت ٹھہری سی اِک نوحہ گری ہے
بے طرح داستاں بدلتی تھی لاکھ بدلے زمانہ اور موسم دل کی حالت کہاں بدلتی تھی
اسیرِ راہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں وہ جس نے ساری ہواؤں کے رُخ بدل ڈالے اسی نگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں جو دیکھ آتے ہیں اک بار جالیاں ان کی آرامگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں وہ یارِ غار جو آقا پہ جان دیتا تھا رفیقِ شاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں جہاں […]
وعدۂ یار کی یہ رات بِتا لی جائے
نامِ احمد کے سبب میری دعا کیف میں ہے
گذرے ہو تم بھی شوق کے صحرا سے کیا میاں
کڑوا ہی نہ میٹھا رس گھولا ہی نہیں کوئی