حشر کے دن بھی رہے گا وہی ظلمت کا حجاب
ساتھ جائے گی وہاں بھی شبِ فرقت میری
معلیٰ
ساتھ جائے گی وہاں بھی شبِ فرقت میری
کام نکلا کبھی اپنے سے نہ بیگانے سے
مست کر دے تا خیالِ ساقیٔ کوثر مجھے روضۂ حضرت کا شوقِ دید ہمدم کچھ نہ پوچھ اُڑ کے میں فوراََ پہنچ جاتا جو ملتے پر مجھے بے نیازِ فرشِ محمل ہوں ، گدائے شاہ ہوں خاکِ یثرب کا فقط درکار ہے بستر مجھے فوقؔ اندیشہ نہیں روزِ قیامت آ تو لے بخشوا لیں گے […]
گھر مرا رشک ، وہ روضۂ رضواں ہو گا طالبِ زخم ہیں میرے جگر و دل دونوں اے فلک تو ہی بتا کس کا وہ مہماں ہو گا مل کے دنیا کے پریرو مجھے مٹی دیں گے آج تابوت مرا تختِ سلیماں ہو گا ان بُتوں سے جو کرے گا تو محبت اے فوقؔ پھر […]
تا مرگ یہ رہے گی برابر لگی ہوئی شکوے تو ہیں ہزاروں مگر اُن کے روبرو مہر سکوت ہے مرے لب پر لگی ہوئی سوزِ الم نے دل کو جگر کو جلا دیا اے ہم نفس یہ آگ ہے گھر گھر لگی ہوئی اے فوقؔ دُختِ رند کو کہوں کیا بقولِ ذوقؔ چُھٹتی نہیں ہے […]
روزِ اول ہی جو ہوا ، خالقِ کُل کا انتخاب رازداں سے باخبر لوح و قلم کا کارواں دیکھا نہ جس نے مدرسہ ، اس پہ نزولِ الکتاب مالکِ کُل نے ایک شب اپنے حبیبِ پاک کو خود ہی بلا کے عرش پر ، توڑ دئیے سبھی حجاب تا نہ ہوا زمین پر اُس مہِ […]
فکر اقبال کے اثرات آفاقی ہیں جو وقت کے ساتھ نکھر کر مزید سامنے آ رہے ہیں۔شاعر ِمشرق علامہ اقبال کی شاعری پر تحقیقی کام اور تشریح ایک ایسا عمل ہے۔جس کے نقوش ہر زمانے میں نمایاں رہیں گے اسی لیے کہا جاتا ہے۔ کہ علامہ اقبال کی شاعری کسی ایک زمانے تک محدود نہیں […]
غفلت ہی ہم کو خوب تھی ہشیار کیوں ہوئے پوچھا یہ کیا ؟ ہمارے طلبگار کیوں ہوئے یہ کہیے آپ اتنے طرحدار کیوں ہوئے غافل یہ شرحِ عشق کی گر پیروی نہیں منصور جیسے زیب سرِ دار کیوں ہوئے حیرت نے کی زباں جو دمِ عرض حال بند بولے کہ چُپ ترے لبِ اظہار کیوں […]
درد و غم نے دی تسلی ، ہیں ترے غمخوار ہم
ہے ابرِ سیاہ ماہِ پُر انوار کے نیچے