اردوئے معلیٰ

حمیرا جمیل
فکر اقبال کے اثرات آفاقی ہیں جو وقت کے ساتھ نکھر کر مزید سامنے آ رہے ہیں۔شاعر ِمشرق علامہ اقبال کی شاعری پر تحقیقی کام اور تشریح ایک ایسا عمل ہے۔جس کے نقوش ہر زمانے میں نمایاں رہیں گے اسی لیے کہا جاتا ہے۔ کہ علامہ اقبال کی شاعری کسی ایک زمانے تک محدود نہیں ہے۔ ہر دور فکر ِاقبال کا دور ہے۔
علامہ اقبال نے اذہان پر وہ دستک دی ہے۔ جو قلوب تک رسائی کا راستہ جانتی ہے۔ اُن کی اُردو و فارسی اپنے اندر فکر و دانش کا ایک جہان سمیٹے ہوئے ہے۔ جس سے اہل فکرو نظر مقدور بھر استفادہ کرتے ہیں، شہر ِاقبال کی سکالر حمیرا جمیل کی شعری تخلیق ”بال جبریل” کی شرع لکھ کر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ میں نے جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو حیرت و انبساط کے کئی در کھلتے گئے علامہ اقبال کی شاعری کی شرع لکھنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
ان کی شاعری کا ادراک رکھنے کے لیے تاریخ کا گہرا مطالعہ ازحد ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص تاریخ سے نابلد ہے۔ تو اس پر علامہ اقبال کی شاعری کا ظہور ہونا ناممکنات ہے۔ حمیرا جمیل نے جب یہ کتاب تخلیق کی تو علامہ اقبال کی شاعری پر ان کی گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ اُنہوں نے تشریح میں ایسی سلیس اور آسان زبان استعمال کی کہ بال ِجبریل کا ہر شعر نئے آہنگ سے قرطاس پر اُتر آیا ہے۔
اشعار سے معنی اسطرح کشید کیے گئے ہیں کہ شعر کی افادیت بھی موجود ہے۔ اور تشریح کا حق بھی پوری طرح ادا ہو گیا میں اسے عظیم کار نامہ اس لیے بھی کہہ رہا ہوں کہ علامہ اقبال کی شاعری میں نوجوانوں کو بطورِ خاص مخاطب کیا گیا ہے۔ آج یہ انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ کہ نئی نسل کی نمائندہ قلمکار حمیرا جمیل بال ِجبریل کی شرع لکھ کر نئی نسل کے لیے اقبال بینی کا راستہ ہموار کیا ہے۔
کتاب کی شرع لکھتے ہوئے اس کے اصل پیغام اور اساس کو برقرار رکھنا ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ جس میں ذرا سا بھی توزان بگڑنے پر گرنے گرنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : حمیرا جمیل کا یومِ پیدائش
——
اسی طرح شاعری کی تشریح ایک کٹھن کام ہے۔ اس میں اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے تشریح کرنا کہ اصل بھی قائم رہے۔ اور پیغام رسانی کا فریضہ بھی ادا ہو جائے علامہ اقبال کی شاعری نا صرف شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ بلکہ ڈاکٹر اسرار احمد اور قاضی حسین احمد جیسے بلند پائے کے عالم بھی اس سے ہر وقت استفادہ کرتے تھے اس سے علامہ اقبال کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس سے شارح کا کا کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جس شاعری کی تشریح کر رہا ہے۔ وہ ہر طبقہ ِفکر کے لوگوں میں مقبول عام ہے۔
حمیرا جمیل کے لیے یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ بلکہ وہ اقبالیات پر نہ صرف گہری نظر رکھتی ہیں، بلکہ اس سے پہلے بھی شرح بانگ، بیان ِاقبال تخلیق کر کے فکر ِاقبال کو عام قاری تک رسائی کا کار خیر انجام دے چکی ہیں ۔
اس کتاب کو پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا علامہ اقبال اپنی شاعری میں نوجوانوں سے جو اُمیدیں وابستہ کرتے تھے اس کے پیچھے بہت بڑی حکمت تھی نوجوان جب ہراول دستہ بن جائیں تو کوئی بھی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ مجھے حمیرا جمیل کا فکری میلان دیکھ کر ان سے کسی ایسے ہی کارنامے کی توقع تھی جو پوری ہو رہی ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات