وہ اور لوگ ہیں جن کو ہے خشک و تر کی تلاش

ہمیں تو رہتی ہے شاہِ اُمم کے در کی تلاش کبھی تو روضۂ اقدس بھی سامنے ہو گا کبھی تو ہو گی مکمل مری نظر کی تلاش مرے تئیں تو سبھی آپ کی تلاش میں ہیں یہ لوگ جن کو ہے ہر وقت بحر و بر کی تلاش خدا نے کتنی بلندی اُنھیں عطا کی […]

تب ہی تسکینِ جان ہوتی ہے

نعت جب مجھ کو دان ہوتی ہے عاشقوں کے لیے مدینے کی دھوپ بھی سائبان ہوتی ہے شہرِ طیبہ کی پاک گلیوں میں زندگی مہربان ہوتی ہے میرے افکار کے پرندے کی اُن کی جانب اڑان ہوتی ہے راہِ مدحت ہے احتیاط کرو ہر گھڑی امتحان ہوتی ہے بس حقیقت ہے آپ کی عظمت باقی […]

کیا خوب چمک دار ہیں رخسار نبی کے

ہر سمت نظر آتے ہیں انوار نبی کے بس ایک طرح سے ہی بھلائی ہے ہماری ہم خود پہ جو نافذ کریں معیار نبی کے عشّاق کی محفل تو یونہی جاری رہے گی ہر دور میں آئیں گے طلب گار نبی کے ہر اک پہ برستا ہے وہاں فضل خدا کا دن رات جہاں ہوتے […]

میں کہاں اور کہاں مدحتِ سلطانِ حرم

کام آئی ہے مگر نسبتِ سلطانِ حرم وہ بھلا لطف و عنایات و کرم کیا سمجھیں جن کے سینوں میں نہیں الفتِ سلطانِ حرم کارِ مدحت کو کوئی شخص نہ کم تر سمجھے نعت کہنا بھی تو ہے خدمتِ سلطانِ حرم اُن کے رتبے سے بس اونچا ہے خدا کا رتبہ کتنی افضل ہے فدا […]

دکھ درد کا ہوتا ہے درمان مدینے میں

سب مشکلیں ہوتی ہیں آسان مدینے میں دل اس کا مدینے سے پھر لَوٹ نہیں پاتا اک بار جو ہو جائے مہمان مدینے میں اب پیشِ نظر میرے بس طیبہ کا جلوہ ہے رہتا ہوں تصور میں ہر آن مدینے میں ساتھ اپنے درودوں کے نذرانے لیے جاؤ کام آتا ہے بس اتنا سامان مدینے […]

نبی کی حب سے علاقہ نہیں تو کچھ بھی نہیں

ہمارے سر میں یہ سودا نہیں تو کچھ بھی نہیں ہزار باغ بسے ہوں نگاہ میں پھر بھی نظر میں آپ کا روضہ نہیں تو کچھ بھی نہیں یہ مال و دولتِ دنیا یہ عزت و شہرت درِ حضور پہ تکیہ نہیں تو کچھ بھی نہیں سنا ہے میں نے یہ اہلِ نظر کو کہتے […]

مدینے کے والی تجھے دیکھتا ہوں

میں بن کے سوالی تجھے دیکھتا ہوں تجھے دیکھنے کی بڑی آرزو تھی اے روضے کی جالی تجھے دیکھتا ہوں دریدہ ہے دل تو ہیں آنکھوں میں آنسو لیے ہاتھ خالی تجھے دیکھتا ہوں مدینے کا پانی تجھے ہے میسّر کھجوروں کی ڈالی تجھے دیکھتا ہوں تجھے سب سے پہلے خدا نے بنایا ترا رتبہ […]

گنبدِ سبز کے انوار میں بیٹھے رہتے

کاش ہم آپ کے دربار میں بیٹھے رہتے آپ تشریف نہ لاتے جو وہاں سے آقا ساتھ صدیقؓ اسی غار میں بیٹھے رہتے شکر ہے آپ نے بلوایا ہمیں اپنی طرف ورنہ ہم محفلِ اغیار میں بیٹھے رہتے وقت کٹنے کا بھی احساس نہ ہوتا ہم کو محو ہم آپ کے دیدار میں بیٹھے رہتے […]

بیان کرتا رہوں یوں ہی عظمتِ آقا

مری حیات کا مقصد ہے مدحتِ آقا خدا کا شکر میں وابستہ ہوں درِ حق سے خدا کا شکر سلامت ہے نسبتِ آقا یہی وہ در ہے جو کُھلتا ہے خلد کی جانب کسی بھی حال میں چھوڑو نہ سنّتِ آقا حضور آپ کا طیبہ کو کوچ کر جانا نہ بھول پائے گی مکے کو […]

وہ ماہِ طیبہ مری آنکھ کو دکھایا گیا

پھر ایک حشر مرے دل میں بھی اٹھایا گیا خدا کا شکر ہے پھر بھی نبی کی راہ پہ ہوں ہزار بار مرے دل کو ورغلایا گیا نظامِ شمسی پہ واجب ہوا طواف اس کا ستارہ خاکِ مدینہ سے جب اٹھایا گیا انھی کی آل کی خادم ہے کائنات سبھی مجھے تو روزِ ازل سے […]