اُس کو تو صرف اپنی اکائی کی فکر ہے
ہم وہ کہ ہم کو ساری خدائی کی فکر ہے
معلیٰ
ہم وہ کہ ہم کو ساری خدائی کی فکر ہے
ہر سمت وہاں آج بارود کی بو ہے سڑکوں پہ جو بہتا ہے یہی رنگِ حنائی یہ رنگ نہیں میرے ہی اپنوں کا لہو ہے
نشترؔ یہ عمر بھر کی کمائی نہیں تو کیا لفظوں کو جوڑ لینا کمالِ ہنر نہیں رنگِ غزل لہو سے حنائی نہیں تو کیا
کہاں کسی کے کُھلے لب ، کوئی کہاں بولا تندور میں کبھی زندہ بدن جلائے گئے زباں کوئی نہ کُھلی تھی مگر دھواں بولا
غمِ معاش نے گھر سے نکال رکھا ہے ہمارے بچے غموں سے ہیں بے نیاز ابھی ابھی یہ مورچہ ہم نے سنبھال رکھا ہے
زباں کر ہی نہیں سکتی بیاں عظمت محمد کی خدا خالق ہے ، ربِ دو جہاں ہے اس میں کیا شک ہے یقیناََ قائم و دائم رہی حُجت محمد کی ادھر زنجیر میں جنبش ، ادھر گرمی ہے بستر میں ادھر وہ لوٹ بھی آئے ، یہ ہے رفعت محمد کی ادھر لشکر لعینوں کے […]
میں نیک کام کر کے گنہگار ہو گیا کل خوب قتلِ عام ہوا اُن کی بزم میں اُٹھنا نگاہِ ناز کا تلوار ہو گیا جلوے کے سامنے تمہیں اپنی خبر نہ تھی موسیٰؑ یہ کیسے مان لوں دیدار ہو گیا شرما کے منہ چھپانے لگا بادلوں میں چاند کل شب جو بے نقاب رُخِ یار […]
ہم سب کی ہے ناموسِ رسالت پہ فدا جان صورت پہ فدا اور تری سیرت پہ فدا جان اے پیارے نبی تیری فضیلت پہ فدا جان اے نور مجسم تری شوکت پہ فدا جان اے رحمت عالم تری رحمت پہ فدا جان اے یارِ نبی تیری صداقت پہ فدا جان فاروق تری عدل و حکومت […]
یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے نشیب چشم تماشا بنا گیا مجھ کو کہیں بلندی ایام پر بناتے ہوئے میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے شب سیاہ سے رنگ سحر بناتے ہوئے […]
کہیں کیا سلسلہ دل کا کہاں پر جا نکلتا ہے مژہ تک آتا جاتا ہے بدن کا سب لہو کھنچ کر کبھی کیا اس طرح بھی یاد کا کانٹا نکلتا ہے دکان دل بڑھاتے ہیں حساب بیش و کم کر لو ہمارے نام پر جس جس کا بھی جتنا نکلتا ہے ابھی ہے حسن میں […]