کہاں انسان سے ہو پائے گی مدحت محمد کی

زباں کر ہی نہیں سکتی بیاں عظمت محمد کی خدا خالق ہے ، ربِ دو جہاں ہے اس میں کیا شک ہے یقیناََ قائم و دائم رہی حُجت محمد کی ادھر زنجیر میں جنبش ، ادھر گرمی ہے بستر میں ادھر وہ لوٹ بھی آئے ، یہ ہے رفعت محمد کی ادھر لشکر لعینوں کے […]

سچ بول کے ستم ہے خطا وار ہو گیا

میں نیک کام کر کے گنہگار ہو گیا کل خوب قتلِ عام ہوا اُن کی بزم میں اُٹھنا نگاہِ ناز کا تلوار ہو گیا جلوے کے سامنے تمہیں اپنی خبر نہ تھی موسیٰؑ یہ کیسے مان لوں دیدار ہو گیا شرما کے منہ چھپانے لگا بادلوں میں چاند کل شب جو بے نقاب رُخِ یار […]

آقا تری عزت تری عظمت پہ فدا جان

ہم سب کی ہے ناموسِ رسالت پہ فدا جان صورت پہ فدا اور تری سیرت پہ فدا جان اے پیارے نبی تیری فضیلت پہ فدا جان اے نور مجسم تری شوکت پہ فدا جان اے رحمت عالم تری رحمت پہ فدا جان اے یارِ نبی تیری صداقت پہ فدا جان فاروق تری عدل و حکومت […]

فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے

یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے نشیب چشم تماشا بنا گیا مجھ کو کہیں بلندی ایام پر بناتے ہوئے میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے شب سیاہ سے رنگ سحر بناتے ہوئے […]

مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہے

کہیں کیا سلسلہ دل کا کہاں پر جا نکلتا ہے مژہ تک آتا جاتا ہے بدن کا سب لہو کھنچ کر کبھی کیا اس طرح بھی یاد کا کانٹا نکلتا ہے دکان دل بڑھاتے ہیں حساب بیش و کم کر لو ہمارے نام پر جس جس کا بھی جتنا نکلتا ہے ابھی ہے حسن میں […]