ہم ترے پاس آ تو جائیں مگر
راہ میں فکرِ روزگار بھی ہے ترے وعدے پہ ہم یہ بھول گئے بُھول جانا ترا شعار بھی ہے
معلیٰ
راہ میں فکرِ روزگار بھی ہے ترے وعدے پہ ہم یہ بھول گئے بُھول جانا ترا شعار بھی ہے
جیسے پھر کچھ کھو دیا پایا ہوا ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں تعبیرِ خواب اپنے ہی خوابوں کا چونکایا ہوا
یہ وہی رفیق کہیں نہ ہوں کہ جو صدیوں پہلے بچھڑ گئے
خوبصورت لب و لہجے کےصاحب ِ طرز شاعر سیدفخرالدین بلے کی بیاض کے ساتھ نامورادیب و شاعر شبنم رومانی نے سات دن گزارے اور اختصار کے ساتھ اظہاریہ بھی لکھا،اُنہیں جو اشعار زیادہ بھائے ،انہیں اب کتابی شکل دے دی گئی ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ شبنم رومانی کے فرزند ارجمند اور جانے مانے شاعر […]
کہ دنیا کی بھی کچھ سُن لے اگر دنیا میں رہنا ہے
نظریں ملی ہیں ایک زلیخا نگاہ سے
یہ کس نے کہہ دیا ہم زیست سے بیزار بیٹھے ہیں
یہ حادثہ ہے کہ ہم اختصار کرتے رہے
آپ دھوکا مجھے دیں اور میں دھوکا نہ کہوں
میری تصویر بنائیں شاید