تمہارے بعد رہا کیا ہے دیکھنے کے لیے

اگرچہ ایک زمانہ ہے دیکھنے کے لیے کوئی نہیں جو ورائے نظر بھی دیکھ سکے ہر ایک نے اسے دیکھا ہے دیکھنے کے لیے بدل رہے ہیں زمانے کے رنگ کیا کیا دیکھ نظر اٹھا کہ یہ دنیا ہے دیکھنے کے لیے ذرا جو فرصت نظارگی میسر ہو تو ایک پل میں بھی کیا کیا […]

منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا

بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستان گلاب لکھنا میں جب چلوں گا تو ریگزاروں میں الفتوں کے کنول کھلیں گے ہزار تم میرے راستوں میں محبتوں کے سراب لکھنا فراق موسم کی چلمنوں سے وصال لمحے چمک اٹھیں گے اداس شاموں میں کاغذ دل پہ گزرے وقتوں کے باب لکھنا وہ میری خواہش […]