اک زمانہ تھا کہ اک دنیا مرے ہمراہ تھی
اور اب دیکھوں تو رستہ بھی نگاہوں میں نہیں
معلیٰ
اور اب دیکھوں تو رستہ بھی نگاہوں میں نہیں
روز سیلاب بہا کر لے جائے
دم تری بندگی کا بھرتا ہوں جب تری حمد کان پڑتی ہے دلِ مردہ میں جان پڑتی ہے صبح کا نور ہے کتاب تری حمد کرتا ہے آفتاب تری رات دِن کے ورق اُلٹتا ہے لطف تیرے سے وقت کٹتا ہے کوہساروں کو تو نے چمکایا برف کا تاج اُن کو پہنایا چاندنی تیرے گیت […]
تصویر میں نے کھینچ لی رحمت کے باب کی
دیر تک دل کے دھڑکنے کی صدا آتی ہے
ہر منظرِ خوش دیکھ کے آتا ہے خدا یاد
ہدیہ دربارِ نبی میں کوئی کیا لے جائے
ضیا فگن ہے فضا میں حضور کا پرچم
سب زمانے مرے آقا ہیں زمانے تیرے
ایک کانٹا بھی جو رستے سے ہٹا دیتے ہیں زندہ کرتے ہیں وہی سُنتِ محبوبِ خدا زخم کھا کھا کے جو دشمن کو دعا دیتے ہیں