سخن کی کھیتی پہ جیسے اُترے ثنا کے موسم

بصد تنوع مہکتے آئے عطا کے موسم طلوعِ صبحِ جمالِ مدحت کی تازگی سے بکھرتے جائیں گے ابتلا و بلا کے موسم کمال پروَر ہے کوئے جاناں کی موجِ نکہت جمال افزا ہیں قریۂ دلرُبا کے موسم صراطِ جاوءک پر شفاعت نے جب سنبھالا تو کون جانے کدھر گئے پھر خطا کے موسم تمہاری خاطر […]

تھا یہ محبت کا اثر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر

بٹ کر رہا دردِ جگر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر آئین میں ترمیم کر، انصاف سے تقسیم کر! جنسِ وفا، حسنِ نظر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر شاداب کِشتِ حُسن ہو، سیراب ذوقِ عشق ہو دریا بہا اے چشمِ تر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر ابرِ کرم کھل کر برس، کھل کر برس، اب کے برس ہر دشت […]

چیختے ہیں مفلس و نادار آٹا چاہئے

لکھ رہے ہیں ملک کے اخبار آٹا چاہئے از کلفٹن تابہ مٹروپول حاجت ہو نہ ہو کھارا در سے تابہ گولی مار آٹا چاہئے مرغیاں کھا کر گزارہ آپ کا ہوجائے گا ہم غریبوں تو تو اے سرکار، آٹا چاہئے ہم نے پاؤڈر کا تقاضا سن کے بیگم سے کہا کیا کرو گی غازۂ رخسار، […]