اس کے اٹھنے کا اب سوال نہیں
گر پڑا ہے جو آنسوؤں کی طرح میں ازل سے تلاش میں اپنی جلتا بجھتا ہوں جگنوؤں کی طرح
معلیٰ
گر پڑا ہے جو آنسوؤں کی طرح میں ازل سے تلاش میں اپنی جلتا بجھتا ہوں جگنوؤں کی طرح
کرب ہی کرب لیے لوٹ کے گھر جاؤ گے تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نا کرو تشنگی لب پہ سجائے ہوئے مر جاؤ گے
کچھ اس طرح سے اس نے ستایا تمام رات چپ چاپ صرف گٹکا چبایا تمام رات دن میں تو کہہ رہی تھی کہ تم میرے شیر ہو اور اس کے بعد الو بنایا تمام رات وہ سو رہی تھی اس کا بدن جاگتا رہا سو سو کے اس نے مجھ کو جگایا تمام رات بچوں […]
کثرتِ اولاد سے ہم اس قدر بیزار ہیں اب تو بیگم سے الگ رہنے کو بھی تیار ہیں اب یہ عالم ہے کہ جس کمرے میں بھی ڈالو نظر گھر کے ہر کونے میں ہیں بکھرے ہوئے لخت جگر اپنی بیگم پر ہوئے شام و سحر ہم یوں نثار پوسٹروں کی شکل میں رسی پہ […]
ساری تعریفیں ہیں بس شایانِ ربُ العالمین ہر طرف ہے اُس کی قدرت کا کرشمہ آشکار ہر جگہ ہے جلوۂ تابانِ ربُ العالمین ہے کشادہ سب کی خاطر اُس کا دربارِ کرم عام ہے سب کے لیے فیضانِ ربُ العالمین سر وہی ہے جس میں ہو سودا خدائے پاک کا دل وہی ہے جس میں […]
دردِ انسانیت کی دوا کر گئے اُن کی خیرالورائی کے صدقے حفیظؔ اُن پہ قرباں جو سب کا بھلا کر گئے
عام ہے چشمۂ فیضانِ رسولِ عربی غیر ممکن اُسے عرفانِ خدا ہو حاصل جس کو حاصل نہیں عرفانِ رسولِ عربی
دشمن ازل سے گردشِ چرخِ کُہن کا ہوں تلوار کا دھنی ہوں تو میں شیر رَن کا ہوں ہوں روح خاندان کی ، پھول اِس چمن کا ہوں بھائی بہن کا پیارا عزیز انجمن کا ہوں مجبور ہوں مگر کہ سپاہی وطن کا ہوں اے بوڑھے باپ رُخصتِ میدانِ جنگ دے چہرے کو میرے سُرخیٔ […]
اک ضربِ ید اللّٰہی، اک سجدۂ شبیری
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی حق سے پائی وہ شان کریمی مرحبا دونوں عالم کے والی اس کی قسمت کا چمکا ستارہ جس پہ نظر کرم تم نے ڈالی زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دین حق کی بچا لی وہ محمد کا پیارا نواسا جس نے […]