میں سجّے ہتھ کو بیٹھا تھا ادھر بازار کے وچ میں

وہ کبھّے ہتھ سے میرے کول گذرے کار کے وچ میں اکیلے تو نہیں ملتے جدوں بھی اب وہ ملتے ہیں کبھی چھ سات کے وچ میں کبھی دوچار کے وچ میں میں بولا، بادشاہو! میری اِک چھوٹی سی گَل سُن لو وہ بولے، چھڈو جی! کیا گل سنیں بازار کے وچ میں لبوں کے […]

صورتِ نعت نو یاب ہے آوازۂ دل

للہِ الحمد ، کہ بکھرا نہیں شیرازۂ دل موسمِ مدحِ پیمبر کی نمو کاری سے صحنِ احساس میں کِھلتا ہے گُلِ تازۂ دل یادِ سرکار چلی آتی ہے ہر سانس کے ساتھ مَیں مقفل نہیں کرتا کبھی دروازۂ دل توشۂ شہرِ کرم بار ہے خاکِ اطہر ہے یہی کحلِ بصر اور یہی غازۂ دل نقش […]

یہ درگاہِ معالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم

یہاں کی رُت جمالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم مچل لیں روضۂ جنت میں آنکھیں اور حرفِ لب یہاں سے آگے جالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم الگ انداز ہے زائر کی حیرت کا ، عقیدت کا عجب تیرا سوالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم کوئی […]