جو دیکھا کرتا تھا صد ہزاراں برس سے جبریل اِک ستارہ
وہ بخششِ عام کا وسیلہ ، وہ رحمتِ کُل کا استعارہ شرَف سے عاری ہے زندگانی ، عمل سے محروم فردِ عصیاں نیازِ مدحت کا سبز کاغذ کرے گا پُورا مرا خسارہ بَلا کی سرکش ہے موجِ دریا ، خطَر فزوں ہے مگر مجھے کیا؟ خیالِ شہرِ نوید پروَر اُڑا کے لے آئے گا کنارہ […]