نہ جوازِ گنبدِ سبز میں ، نہ دیارِ گنبدِ سبز میں
مری ہجر زاد مسافتیں ہیں مدارِ گنبدِ سبز میں وہی تازگی کی نمود ہے ، وہی زندگی کا شہود ہے وہ جو سبزگی سی رواں رواں ہے بہارِ گنبدِ سبز میں کوئی ہست اُس سے جُدا نہیں ، کوئی بُود اُس سے ورا نہیں کہ یہ ممکنات کے سلسلے ہیں حصارِ گنبدِ سبز میں کوئی […]