نہ جوازِ گنبدِ سبز میں ، نہ دیارِ گنبدِ سبز میں

مری ہجر زاد مسافتیں ہیں مدارِ گنبدِ سبز میں وہی تازگی کی نمود ہے ، وہی زندگی کا شہود ہے وہ جو سبزگی سی رواں رواں ہے بہارِ گنبدِ سبز میں کوئی ہست اُس سے جُدا نہیں ، کوئی بُود اُس سے ورا نہیں کہ یہ ممکنات کے سلسلے ہیں حصارِ گنبدِ سبز میں کوئی […]

کافی ہے بہرِ خیر یہ احسانِ پنج تن

نسلوں سے ہُوں غُلامِ غُلامانِ پنج تن تب سے ہُوں بے نیاز ، غمِ روزگار سے جب سے ہے میرے ہاتھ میں دامانِ پنج تن موسم نئی بہار کا ہے کتنا جاں فزا جاری ہے کشتِ شوق پہ بارانِ پنج تن کس کو ہُوئی زحمتِ اظہارِ مدعا رکھتا نہیں ہے کس کی خبر خوانِ پنج […]

عزیز صفی پوری کا یومِ وفات

آج معروف کلاسیکل شاعر عزیز صفی پوری کا یومِ وفات ہے ۔ (پیدائش: 8 مارچ 1843ء – وفات: 2 جولائی 1928ء) —— عزیز صفی پوری کا اصل نام ولایت علی خاں اور عزیزؔ تخلص تھا ۔ عزیز صفی پوری کی ولادت 6 صفر 1259 عیسوی کو صفی پور اپنے ننھیال میں ہوئی ۔ مولوی محمد […]

ذرہ ذرہ زمیں کا درخشاں ہوا

جس گھڑی جلوہ گر ماہِ تاباں ہوا نُور اوّل کی آمد ہوئی جس گھڑی سارے عالم میں گھر گھر چراغاں ہوا کھل گئے بخت اس کو سعادت ملی جو بھی شہرِ مدینہ کا مہماں ہوا حاضری کا مجھے بھی شرف مل گیا خوش مقدر ہوں پورا یہ ارماں ہوا حجرۂ دل کی خوش بخت دیوار […]

طوفان رنج و غم کے بجھاتے رہے چراغ

یادِ نبی کے دل میں سجاتے رہے چراغ تاریکیاں تھیں چاروں طرف جب جہان میں ان کے غلام تب بھی جلاتے رہے چراغ ظلمت شبِ سیاہ کی گہری تو تھی مگر ’’ہم بھی درود پڑھ کے بناتے رہے چراغ‘‘ سرکار کی غلامی نے بخشا وہ حوصلہ دورِ ستم میں عدل کے لاتے رہے چراغ غارِ […]

اعتبار ساجد کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر اعتبار ساجد کا یوم پیدائش ہے ۔ (پیدائش: یکم جولائی 1948ء) —— نام سید اعتبار حسین اور تخلص ساجد ہے۔ یکم جولائی۱۹۴۸ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کرکے آپ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ پہلے گورنمنٹ کالج نوشکی(بلوچستان) میں لکچرر رہے ۔ بعد ازاں اسلام آباد […]

’’اس طرف بھی شاہِ والا، بندہ پرور ، دیکھئے‘‘

سخت مشکل میں گھرے ہیں تیرے نوکر دیکھئے یا رسول اللہ ! رحمت کی نظر کا ہے سوال آیا ہے فریاد لے کر در پہ کمتر دیکھئے آپ منگتوں کے سدا دامان بھرتے ہیں شہا ! آپ کے ہوتے ہوئے غیروں کو کیونکر دیکھئے بھیک لینے آ گئے شاہ و گدا دربار میں ہم بھی […]

مدینہ شہر میں اپنا قیام ہو جائے

زیارتوں سے یہ دل شاد کام ہو جائے ترس رہا ہے یہ سرکار ! اذن دے دیجے ’’سلام کے لئے حاضر غلام ہو جائے‘‘ مدینے شہر کی مٹی ملے جو مدفن کو اگرچہ نیچ ہوں ، اونچا مقام ہو جائے مدینے جانے کو آقا، نہیں ہے زادِ سفر جو آپ چاہیں تو سب انتظام ہو […]

اپنی ہستی حباب کی سی ہے

عمر ساری سراب کی سی ہے حبِ سرکار گر نہ ہو دل میں زندگانی عذاب کی سی ہے ہجر طیبہ میں بے کلی ہے بہت ’’حالت اب اضطراب کی سی ہے‘‘ عمرِ سرکار کا ہر اک لمحہ سامنے اک کتاب کی سی ہے عاصیوں پر حضور کی رحمت چھاؤں ٹھنڈی سحاب کی سی ہے ہے […]

جو کچھ بھی ہے جہان میں سارا نبی کا ہے

سارے جہاں میں نُور اجالا نبی کا ہے گرچہ ہیں خالی ہاتھ پہ رہتے ہیں مطمئن شکرِ خدا کہ ہم کو سہارا نبی کا ہے ڈوبا ہوا تھا مہر، سرِ عصر پھرایا ٹکڑے ہوا ہے چاند اشارہ نبی کا ہے اس کے تو رزق و مال میں کیونکر کمی رہے جو خوش نصیب ، مانگنے […]