ہوش والوں کو سراسیماں و حیراں دیکھا
تیرے دیوانے کو ہر حال میں شاداں دیکھا
معلیٰ
تیرے دیوانے کو ہر حال میں شاداں دیکھا
موت اُن کی منزلِ مقصود کا اک نام ہے
ذرہ ذرہ دے رہا ہے مژدۂ دیدارِ دوست
یاد رہے گا دشت کو میرے جنوں کا بانکپن
جنونِ شوق کی یہ چرخ پیمائی نہیں جاتی
بُوئے خوں آتی ہے اس فصل میں گلزاروں سے
شیشے سے بھی نازک ہوتے ہیں یہ سیم بدن اصنامِ غزل
میں اپنے ساتھ اپنی بے زبانی لے کے آیا ہوں
آپ سچ کہتے ہیں ، ہاں آپ بجا کہتے ہیں
اتراتی ہوئی گناہ گاری آئی غم دور ہوا عزیزؔ خوش ہو خوش ہو کس شان سے مغفرت ہماری آئی