ضرب آخری جو مثل قیامت ہے ابھی تک

یعنی کہ ترا وار سلامت ہے ابھی تک ؟ وہ سامنے آ کر بھی ملاتا نہیں آنکھیں اپنے کیے پر اس کو ندامت ہے ابھی تک یعنی کہ ترے ذکر میں جو چین کی ہے وجہ وہ پیار کی سینے میں علامت ہے ابھی تک یہ کون ہے صدیوں سے جو سجدے میں مصروف یہ […]

نہ مر سکے گا یہ اس بار بھی سکون کے ساتھ

دسمبر آ کے ملایا ہے جس نے جون کے ساتھ وہ گلستان کی صورت ہرے بھرے ہیں آج جو پھول بوٹے بنائے تھے میں نے خون کے ساتھ کہ دشت میں بھی اکیلا رہا میں ساری عمر نہ چل سکی تری وحشت مرے جنون کے ساتھ میں گھر میں ساتھ ہوں سب کے مگر اکیلا […]

آزادی

جہانِ تیرگی میں روشنی ہے آزادی سو خوش نصیب وہ، جن کو ملی ہے آزادی خدایا ! شکر ادا جس قدر کریں کم ہے وطن کے نام پہ ہم کو جو دی ہے آزادی نہیں تھا اتنا بھی آسان یہ وطن لینا جگر کا خون دیا ہے تو لی ہے آزادی کہ ان کا نام […]

ایک کلک

وہ ناتواں قدموں سے چل رہا تھا دور سے جس نے اسے دیکھا وہ سمجھا جھولتا ہوا یہ شخص نشئی ہے ارے یہ کیا ہوا وہ تو مر گیا ہے اس کے گرد گھیرا ڈالتے ہجوم میں سے آواز آئی   مجھے یاد آیا اسے میں نے صبح گول چوک میں سڑک کراس کرتے اپنی […]

جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ

ہوائے تند! رک! بجھا نہ تو غریب کا چراغ درِ رسول پر جھکا ہوا ہوں پھر سے کبریا! عطا ہو خاک زاد کو ترے حبیب کا چراغ جہاں میں جس نے روشنی کو زاویے کئی دیے کہ اس جہاں میں کیوں بجھے گا اس ادیب کا چراغ تم اپنی اپنی ذات سے الجھ کے ہو […]

سلام میں نے پڑھا ہے رسول کے در پر

قبول ہونے لگا ہے رسول کے در پر میں منتظر ہوں بلاوے کا، جانتا ہوں مگر یہ حاضری بھی عطا ہے رسول کے در پر مجھے یقین ہے ان کے کرم کے باعث ہی مجھے بلایا گیا ہے رسول کے در پر مرے خدا کی یہ مجھ پر بڑی عنایت ہے نعم کا خوان کھلا […]

توحید تری شان ہے اے صاحبِ لولاک

بیشک یہی عرفان ہے اے صاحبِ لولاک تو عشق کا عنوان ہے اے صاحبِ لولاک کیا نور کا سامان ہے اے صاحبِ لولاک دیکھوں تجھے اور تیرے سوا کچھ بھی نہ دیکھوں ہر دم یہی ارمان ہے اے صاحبِ لولاک کیونکر نہ وہ سمجھے تجھے یکتائے دو عالم جو دل سے مسلمان ہے اے صاحبِ […]