مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

یہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل کسی کی آنکھوں میں دھیرے دھیرے اتر رہا ہے نمی کا بادل قلم سے کس کے نکل رہا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل شکستہ کاغذ پر آنسوؤں کا بنا ہوا ہے جو ایک تالاب وہ میری آنکھوں سے بہہ رہا ہے اداس […]

گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحے

حسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحے زمیں کے سینے میں زندہ ہیں جو اگر سماعت ہے سن سکو تو مری نگاہوں سے آج سن لو حجاب آنکھوں کے زندہ نوحے کہ میری غزلوں میں میری نظموں میں کرب آ کر سمٹ گیا ہے مرے قلم سے نکل رہے ہیں جناب آنکھوں […]

معجزہ یہ ہے کہ منزل کے نشاں تک پہنچے

برف کے لوگ بھی سورج کے جہاں تک پہنچے کتنے مٹی کے بدن تیز ہواؤں کے طفیل کاغذی ناؤ میں پانی کے مکاں تک پہنچے میں کہ ظلمت میں مقفل ہوں کبھی میرے خدا صبح کی پہلی کرن میرے مکاں تک پہنچے ہم وہ نادان کہ پتھر کے کھلونے لینے گھر سے نکلے بھی تو […]

ندیوں کے پانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیں

درد کی روانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیں یاد جب وہ آتی ہے ساز بجنے لگتے ہیں پیار کی نشانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیں اک دھنک اترتی ہے اس کے ساتھ آنگن میں رنگ آسمانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیں لفظ گنگناتے ہیں صبح کے اجالے میں حسن نوجوانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیں آج یاد رفتہ نے […]

کیسا لہجہ تھا کس حال میں وہ رہی ایک ہی سانس میں

کہنے والی کہانی مری کہہ گئی ایک ہی سانس میں یہ بھلا کیا کہ اک ایک گھونٹ اپنے اندر اترتا رہے مے اگر تو نے پینی ہے تو ساری پی ایک ہی سانس میں ایک ہی سانس میں ہے سمایا ہوا یہ جہاں اے خدا ہم نے ساری خدائی تری دیکھ لی ایک ہی سانس […]